تذکرہ — Page 405
۱۹۰۲ء ’’حدیثوں میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت عمریں بڑھادی جاویں گی اس کے معنے یہی مجھے سمجھائے گئے ہیں کہ جو لوگ خادمِ دین ہوں گے اُن کی عمریں بڑھائی جاویں گی۔جو خادم نہیں ہوسکتا وہ بُڈھے بیل کی مانند ہے کہ مالک جب چاہے اُسے ذبح کر ڈالے۔‘‘ (الحکم جلد ۶ نمبر۳۱مورخہ۳۱؍اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۸) ۱۹۰۲ء ’’خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۱۷) ۱۹۰۲ء ’’مَیں نے اپنے والد صاحب کو خواب میں دیکھا (دراصل ملائکہ کا تمثّل تھا مگر آپ کی صورت میں) آپ کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چھڑی ہے۔گویا مجھے مارنے کے لئے ہے۔مَیں نے کہا کوئی اپنی اولاد کو بھی مارتا ہے۔جب مَیں یہ کہتا ہوں تو اُن کی آنکھیں پُر آب ہوجاتی ہیں۔پھر وہ ایسا ہی کرتے ہیں تو مَیں یہی کہتا ہوں۔آخر دو تین بار جب اسی طرح ہوا پھر میری آنکھ کُھل گئی۔‘‘ (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۶) ۱۹۰۲ء حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کی طبیعت کل ناساز تھی۔آج الحمد للہ اچھی تھی حال دریافت فرمایا اور پھر فرمایا کہ ہم نے جو تصرفات اللہ کے دیکھے ہیں اس سے تو بعض وقت دواؤں کا بھی خیال نہیں آتا۔بعض وقت ہم کو دوا سے شفا ہوئی اور بعض وقت محض دعا سے۔فرمایا مَیں نے دعا کی کہ بدوں دوا کے شفا دے تو پھر اِذن ہوا کہ ہم نے شفا دی اور شفا ہوگئی۔‘‘ (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۶) ۱۹۰۲ء ’’ مولوی نذیر حسین دہلوی مر گیا۔اُس کے مرنے کی خبر آئی تو آپ کی زبان پر اس کے لئے جاری ہوا۔مَــاتَ؎۱ ضَـآلٌّ ھَآئِـمًا۔؎۲ ‘‘ (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۷) ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۲ء ’’ فرمایا۔آج میری زبان پر پھر یہ الہام جاری تھا۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّاالَّذِیْنَ عَلَوْا مِنِ اسْتِکْبَارٍ۔؎۳ ۱ (ترجمہ از مرتّب) ایک گمراہ شخص سرگردانی کی حالت میں مر گیا۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) ’’اس الہام سے اس کی تاریخ (۱۳۲۰ھ) بھی نکلتی ہے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۷حاشیہ نمبر۱) ۳ (ترجمہ از مرتّب) مَیں ان تمام کی جو دَار میں ہیں حفاظت کروں گا سوائے ان لوگوں کے جو تکبر سے بڑے بنتے ہیں۔