تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 1089

تذکرہ — Page 404

۱۵؍ اگست ۱۹۰۲ء؎۱ ’’ تُـخْرَجُ الصُّدُ وْرُ اِلَی الْقُبُوْرِ۔؎۲ یہ بھی ایک الہام ہے۔اِس الہام کے بعد نذیر حسین دہلوی اور فتح علی اور اللہ بخش تَونسوی وغیرہ اِس جہان سے رخصت ہوئے۔‘‘ (الحکم جلد ۶ نمبر۳۹مورخہ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰) اگست ۱۹۰۲ء (الف) ’’ شاید تین ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ مَیں نے خواب میں دیکھا تھا کہ قادیان کی اُس گلی میں جس میں ہم اکثر سَیر کو جاتے ہیں آپ؎۳ مصافحہ کے لئے میری طرف آرہے ہیں۔سو وہ بات پوری ہوگئی۔‘‘ (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۶) (ب) ’’ مَیں نے ایک بار اُس کے متعلق دیکھا کہ گویا اُسی راستہ ہم سَیر کو نکلے ہیں تو اُس بَڑ؎۴کے درخت کے نیچے جو میراں بخش حجام کی حویلی کے پاس ہے نبی بخش سامنے سے آکر ملا ہے اور اُس نے مصافحہ کیا ہے۔یہ رؤیااُن دنوں کی ہے جب وہ مخالفت کے اشتہار چھپواتا پھرتا تھا۔‘‘ (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰) ۱۹۰۲ء ’’ خدا تعالیٰ کی میرے ساتھ یہ عادت ہے کہ جب دعا انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو آخر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ سے اس روک کو توڑتا ہے۔تب بعد اس کے بلا توقف رحمت ِ الٰہی ظاہر ہوجاتی ہے بلکہ قبل اس کے جو صبح ہو آثارِ رحمت نمودار ہونے لگتے ہیں۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۴۱۶،۴۱۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۹۰۲ء ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ تاریخ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے اپنی پُرانی نوٹ بک میں لکھی ہے۔دیکھیے ذکر ِ حبیب صفحہ ۲۱۶۔مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء۔۲ (ترجمہ از مرتّب) مخالفین کے سر گروہ قبروں کی طرف منتقل کئے جائیں گے۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس سے مراد مہر نبی بخش صاحب ہیں جو کسی وقت لغزش کھاکر مرتد ہوگئے تھے بعد میں توبہ کی توفیق پائی اور حضرت اقدسؑ کی خدمت میں تجدید بیعت کے لئے خط لکھا۔اس کے جواب میں حضورؑ نے یہ تحریر فرمایا۔۴ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ بَڑ اُس چوک کے جنوب کی طرف (کوچہ کے غربی جانب) پندرہ بیس گز کے فاصلہ پر تھا جو قصرِ خلافت کی طرف سے محلہ دارالانوار کی طرف جانے والے راستہ اور احمدیہ چوک سے محلہ دارالعلوم وغیرہ کی طرف جانے والے راستہ کا مقام اتصال ہے اور جس راستے کا یہاں ذکر ہے اس سے یہی مؤخر الذکر راستہ مراد ہے۔