تذکرہ — Page 406
اِلَّاالَّذِیْنَ عَلَوْا ہمیشہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔خدا معلوم اس کے کیا معنے ہیں۔اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ متنبہ رہیں۔تقویٰ پر قائم رہیں۔ایک علو تو اس رنگ میں ہوتا ہے جیسے کہ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَـحَدِّ ثْ۱؎ اور ایک علو شیطان کا ہوتا ہے جیسے اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ۲؎ اور اس کے بارے میں ہے۔اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ۔۳؎ یہ اُس سے سوال ہے کہ تیرا علو تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی ہے خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اَعْلٰی کا لفظ آیا اور ہمیشہ آتا ہے۔جیسے اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۴؎ مگریہ تو انکسار سے ہوتا ہے اور وہ تکبر سے ملا ہوا ہوتاہے۔‘‘ (البدر جلد ۱ نمبر۱ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۴) ۱۸ ؍اکتوبر۱۹۰۲ء بروز شنبہ (الف) ’’فرمایا کہ آج کوئی پہر رات باقی ہوگی کہ الہام ہوا۔اِنِّیْ ؎۵ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ وَ لِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحْـمَۃً مِّنَّا۔وَ کَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔عِنْدِیْ مُعَالَـجَاتٌ‘‘؎۶ (البدر جلد ۱ نمبر۱ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۵) (ب) ’’مَیں نے اِس الہام کو معمول کے موافق کتاب میں لکھ لیا اور پھر گھر۷؎ میں دریافت کیا کہ آج تم نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ مَیں نے ابھی ایک خواب دیکھا ہے کہ ایک صندوق بذریعہ بلٹی آیا ہے جس کو شیخ رحمت اللہ نے بھیجا ہے اور وہ دوائیوں کا صندوق ہے۔حکیم فضل الدین کی بیوی اور ہَرُوؔ دائی پاس کھڑی ہیں۔جب اُس کو کھولا گیا تو وہ لبالب دوائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ڈبیاں ہیں، شیشیاں ہیں، غرض پورے طور پر بھرا ہوا ہے گھاس پھُوس کی جگہ بھی دوائیاں ہیں۔مَیں نے اس لحاظ سے کہ اُن کے ایمان میں اَور بھی ترقی ہو کہا کہ مجھے آج یہ الہام ہوا ہے اور مَیں نے وہ لکھا ہوا الہام ان کو دکھا دیا۔خدا کی قدرت ہے کہ کیسا عجیب توارد ہے اِدھر الہام میں رَحْـمَۃً مِّنَّا ہے اُدھررؤیامیں دکھایا گیا ہے کہ رحمت اللہ نے بھیجا ہے۔اور پھر حکیم فضل الدین کی بیوی مریم کاپاس ہونا۔چرا؎۱غ ۱ (ترجمہ از ناشر) اور جہاں تک تیرے ربّ کی نعمت کا تعلق ہے تو (اسے) بکثرت بیان کیا کر۔(الضُّحٰی: ۱۲) ۲ (ترجمہ از ناشر) اس نے انکار کیا اور استکبار سے کام لیا۔(البقرۃ: ۳۵) ۳ (ترجمہ از ناشر) یا تو بہت اونچے لوگوں میں سے ہے۔(صٓ: ۷۶) ۴ (ترجمہ از ناشر) ىیقیناً تو ہی غالب آنے والا ہے۔(طٰہٰ: ۶۹) ۵ (ترجمہ از ناشر) مَیں ہر ایک کو جو اس گھرکی چاردیوارکے اندرہےطاعون سے بچاؤں گا تا کہ ہم اسے لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا نشان بنائیں اور یہ امر پہلے ہی سے قرار پایا ہوا تھا۔میرے پاس کئی علاج ہیں۔۶ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰ پر اس الہام میں وَ لِنَجْعَلَہٗ کی بجائے وَ لِنَجْعَلَ کے الفاظ درج ہیں۔۷ مراد حضرت اُمّ المؤمنین علیہا السلام۔(ایڈیٹر)