تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 1089

تذکرہ — Page 403

اور پھر مَیں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے جو محض قدرت سے زمین میں سے پیدا ہوگیا ہے وہ میرے پاس آبیٹھا ہے اور قُطب کی طرف اُس کا مونہہ ہے۔خاموش صورت ہے، آنکھوں میں بہت حیا ہے اور باربار چند منٹ کے بعد اُن بَنوں میں سے کسی بَن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بَن میں داخل ہوتا ہے تو اس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شورِ قیامت اٹھتا ہے اور ان جانوروں کو کھانا شروع کرتا ہے اور ہڈیوں کے چابنے کی آواز آتی ہے۔تب وہ فراغت کرکے پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے اور شاید دس۱۰ منٹ کے قریب بیٹھا رہتا ہے۔اور پھر دوسرے بَن کی طرف جاتا ہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے۔آنکھیں اُس کی بہت لمبی ہیں اور مَیں اس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتا ہے خوب نظر لگا کر دیکھتا ہوں اور وہ اپنے چہرہ کے اندازہ سے مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے مَیں مامور ہوں۔اور نہایت شریف اور پرہیزگار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کو حکم ہوتا ہے۔تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دَآ۔بَّۃُ الْاَرْض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے… یہی دَآ۔بَّۃُ الْاَرْض جو اِن آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقرر ہے۔یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالمِ کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دَآ۔بَّۃُ الْاَرْض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اِسی لئے پہلے چوہوں پر اِس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہوسکتی ہے اِسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۴۱۵ تا ۴۱۷) اگست ۱۹۰۲ء ’’ نزول المسیح جو آج کل لکھ رہے ہیں اور پِیر گولڑوی کی کتاب سیفؔ چشتیائی بھی زیرِ نظر ہے اس پر کسی قدر توجہ کرنے سے یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ اَنَـا رَبُّکَ الْقَدِ یْرُلَا مُبَدِّ لَ لِکَلِمَاتِیْ۔‘‘ ؎۱ (الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۴) ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں ہی ہوں تیرا ربّ کامل قدرت والا۔میری باتوں کو کوئی ٹلا نہیں سکتا۔