تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 1089

تذکرہ — Page 17

چھریوں کے لگنے سے بھیڑوں نے ایک درد ناک طور پر تڑپنا شروع کیا۔تب اُن فرشتوں نے سختی سے ان بھیڑوں کی گردن کی تمام رگیں کاٹ دیں اور کہا کہ تم چیز کیا ہو گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔مَیں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ ایک سخت وبا ہوگی اور اس سے بہت لوگ اپنی شامتِ اعمال سے مریں گے اور میں نے یہ خواب بہتوں کو سنادی جن میں سے اکثر لوگ اب تک زندہ ہیں اور حلفاً بیان کرسکتے ہیں۔پھر ایسا ہی ظہور میں آیا اور پنجاب اور ہندوستان اور خاص کر امرتسر اور لاہور میں اس قدر ہیضہ پھوٹا کہ لاکھوں جانیں اس سے تلف ہوئیں اور اس قدر موت کا بازار گرم ہوا کہ مُردوں کو گاڑیوں پر لادکر لے جاتے تھے اور مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا مشکل ہوگیا۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵صفحہ ۲۶۳،۲۶۴) ۱۸۷۵ء (قریباً) ’’فطرتاً بعض طبائع کو بعض طبائع سے مناسبت ہوتی ہے۔اسی طرح میری روح اور سیّد عبد القادر کی روح کو خمیر فطرت سے باہم ایک مناسبت ہے۔جس پر کشوفِ۱؎ صحیحہ صریحہ سے مجھ کو اطلاع ملی ہے۔اِس بات پر تیس برس کے قریب زمانہ گذر گیا ہےکہ جب ایک رات مجھے خدا نے اطلاع دی کہ اُس نے مجھے اپنے لئے اختیار کرلیا ہے۔تب یہ عجیب اتفاق ہوا کہ اُسی رات ایک بڑھیا کو خواب آئی جس کی عمر قریباً اَسّی برس کی تھی اور اُس نے صبح مجھ کو آکر کہا کہ میں نے رات سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ہے اور ساتھ اُن کے ایک اور بزرگ تھے اور دونوں سبز پوش تھے اور رات کے پچھلے حصہ کا وقت تھا۔دوسرا بزرگ عمر میں اُن سے کچھ چھوٹا تھا۔پہلے انہوں نے ہماری جامع مسجد میں نماز پڑھی اور پھر مسجد کے باہر صحن میں نکل آئے اور میں اُن کے پاس کھڑی تھی۔اتنے میں مشرق کی طرف ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا تب اُس ستارہ کو دیکھ کر سیّد عبدالقادر بہت خوش ہوئے اور ستارہ کی طرف مخاطب ہوکر کہا۔السَّلام علیکم اور ایسا ہی اُن کے رفیق نے السَّلام علیکم کہا۔اور وہ ستارہ میں تھا۔اَلْمُؤْمِنُ یَرٰی وَ یُرٰی لَہٗ۔‘‘۲؎ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۲۴ حاشیہ) ۱۸۷۵ء (تخمیناً) ’’اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ؎۳ نمازِ مغرب کے بعد عین ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ ) اس جگہ ان کشوف کا تفصیلی ذکر نہیں ہے بلکہ ان کی طرف صرف اشارہ کیا گیا ہے۔۲ (ترجمہ از ناشر) مومن کوئی رؤیا دیکھتا ہے یا اس کے بارہ میں کسی کو رؤیا دکھائی جاتی ہے۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) کتاب البریّہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۹۷، ۱۹۸کے حاشیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کی وفات سےکسی قدر قبل کا ہے۔