تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 1089

تذکرہ — Page 377

اسی وقت یہ الہام سب کو سنایا گیا جو پاس موجود تھے۔آخر ایسا ہی ہوا کہ وہ لڑکا خدا کے فضل سے بالکل تندرست ہوگیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸۔صفحہ ۶۰۸) ۱۹۰۰ء ’’حضرت اُمّ المؤمنین علیہا السلام کی طبیعت ۳؍جنوری ۱۹۰۱ء کو کسی قدر ناساز ہوگئی تھی۔اس کے متعلق حضرت اقدس نے سیر کے وقت فرمایا کہ چند روز ہوئے مَیں نے اپنے گھر میں کہا کہ مَیں نے کشف میں دیکھا ہے کہ کوئی عورت آئی ہے اور اس نے آکر کہا ہے کہ تمہیں؎۱کچھ ہوگیا ہے اور پھر الہام ہوا اَصِـحَّ زَوْجَتِیْ۲؎ چنانچہ کل ۳؍جنوری ۱۹۰۱ء کو یہ کشف اور الہام پورا ہوگیا۔یکایک بے ہوشی ہوگئی اور جس طرح پر مجھے دکھایا گیا تھا اسی طرح ایک عورت نے آکر بتا دیا۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۵) ۱۹۰۱ء ’’ قَالُـوْٓا اِنَّ التَّفْسِیْرَ لَیْسَ بِشَیْ ءٍ۔‘‘؎۳ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۸) ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۱ء (الف) ’’ فرمایا۔آج رات کو الہام ہوا۔مَنَعَہٗ مَانِعٌ مِّنَ السَّمَآءِ۔یعنی اِس تفسیر نویسی میں کوئی تیرا مقابلہ نہ کرسکے گا۔خدا نے مخالفین سے سلب ِطاقت اور سلب ِعلم کرلیا ہے۔اگرچہ ضمیر واحد مذکر غائب ایک شخص یعنی مہر شاہ؎۴کی طرف ہے لیکن خدا نے ہمیں سمجھایا ہے کہ اس شخص کے وجود میں تمام مخالفین کا وجود شامل کرکے ایک ہی کا حکم رکھا ہے تاکہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور اعظم سے اعظم معجزہ ثابت ہو کہ تمام مخالفین ایک وجود یا کئی جان ایک قالب بن کر اس تفسیر کے مقابلہ میں لکھنا چاہیں تو ہرگز نہ لکھ سکیں گے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۱۰) ۱ حضرت اُمّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا مراد ہیں۔(شمس) ۲ (ترجمہ از ناشر) میری بیوی کو تندرست کردے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) انہوں نے کہا کہ یہ تفسیر کچھ بھی نہیں (یعنی تفسیر اعجاز المسیح) ۴ یعنی پیر مہر علی شاہ گولڑوی۔(شمس)