تذکرہ — Page 378
(ب) ’’ اِنِّیْ اُرِیْتُ مُبَشِّــرَۃً فِیْ لَیْلَۃِ الثُّلَثَآءِ۔اِذْ دَعَوْتُ اللّٰہَ اَنْ یَّـجْعَلَہٗ مُعْـجِزَۃً لِّلْعُلَمَآءِ۔وَ دَعَوْتُ اَنْ لَّا یَقْدِرَ عَلٰی مِثْلِہٖ اَحَدٌ مِّنَ الْاُدَبَآءِ۔وَلَا یُعْطٰی لَھُمْ قُدْرَۃٌ عَلَی الْاِنْشَآءِ۔فَاُجِیْبَ دُعَآئِیْ فِیْ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ الْمُبَارَکَۃِ مِنْ حَضْـرَۃِ الْکِبْرِیَآءِ۔وَ بَشَّرَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ مَنَعَہٗ مَانِعٌ مِّنَ السَّمَآءِ۔فَفَھِمْتُ اَنَّہٗ یُشِیْرُ اِلٰی اَنَّ الْعِدَا لَا یَقْدِرُوْنَ عَلَیْہِ۔وَ لَا یَاْتُـوْنَ بِـمِثْلِہٖ وَلَا کَصِفَتَیْہِ۔وَکَانَتْ ھٰذِہِ الْبِشَارَۃُ مِنَ اللّٰہِ الْمَنَّانِ فِی الْعَشْـرِالْاٰخِرِ مِنْ رَمَضَانَ؎۱۔‘‘ (اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۸،۶۹) (ج) ’’ جب بالمقابل تفسیر نویسی میں مخالف مولوی عاجز آگئے اور مہر علی شاہ گولڑوی نے کئی طرح کی قابل شرم کارروائیاں کیں تو اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو یک طرفہ طور پر تفسیر القرآن کا معجزہ عطا فرمایا اور ستر۷۰ روز کے عرصہ میں رسالہ اعجاز المسیح لکھا گیا۔اِس عرصہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آئیں اور بہت سا وقت بیماری میں گزرا… انہیں دنوں میں اس رسالہ کے متعلق یہ الہام ہوا کہ مَنَعَہٗ مَانِعٌ مِّنَ السَمَآءِ یعنی روک دیا اس کو روکنے والے نے آسمان سے۔سو یہ الہام اس صفائی سے پورا ہوا ہےکہ اب تک میاں مہر علی اُس کا جواب نہیں دے سکا اور نہ اُن کا کوئی حامی جواب دینے پر قادر ہوسکا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۰۲) ۱۹۰۱ء ’’ کتاب اعجاز المسیح کے بارے میں یہ الہام ہوا تھا کہ مَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَ تَنَمَّرَ۔فَسَوْفَ یَـرٰی اَنَّہٗ تَنَدَّ مَ وَ تَذَ مَّرَ یعنی؎۲ جو شخص غصہ سے بھر کر اس کتاب کا جواب لکھنے کے لئے طیّار ہوگا وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم ہوا اور حسرت کے ساتھ اُس کا خاتمہ ہوا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۷۱، ۵۷۲) (ترجمہ از مرتّب) منگل کی رات کو مَیں نے ایک مبشر خواب دیکھا تھا جبکہ مَیں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تھی کہ اس کتاب (اعجاز المسیح) کو علماء کے لئے معجزہ بنادے اور یہ دعا کی تھی کہ کوئی ادیب اس کی مثل نہ لاسکے اور انہیں اس کے انشاء کی توفیق ہی نہ ملے۔پس میری دعا اسی مبارک رات خدا تعالیٰ کی جناب میں قبول ہوگئی اور میرے خدا نے مجھے بشارت دی اور فرمایا کہ آسمان سے منع کردیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کتاب کی نظیر لکھے۔تو مَیں سمجھ گیا کہ اس الہام میں خدا نے اشارہ کیا ہے کہ دشمن اس امر پر قادر نہیں ہوں گے اور اس کی مثل نہیں لاسکیں گے (نہ ہی بلاغت میں اور نہ ہی سورۂ فاتحہ کے حقائق میں) اور یہ بشارت رمضان شریف کے آخری عشرے میں ملی تھی۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف) ’’محمد حسن فیضی ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم