تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 1089

تذکرہ — Page 365

۵۰۔وَ اِذْ یَـمْکُرُ بِکَ الَّذِیْ کَفَّرَ۔۵۱۔اَوْقِدْ لِیْ یَا ھَامَانُ لَعَلِّیْ اَطَّلِعُ عَلٰی اِلٰہِ مُوْسٰی وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔۵۲۔تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ۔۵۳۔مَا کَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْـھَآ اِلَّا خَائِفًا۔۵۴۔وَمَا اَصَا بَکَ فَـمِنَ اللّٰہِ۔۵۵۔اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَـرَ اُولُوا الْعَزْمِ۔۵۶۔اَلَا اِنَّـھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَـمًّا۔حُبًّا مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْــرَمِ۔۵۷۔عَطَآءً غَیْرَ مَـجْذُ وْذٍ۔۵۸۔وَ فِی اللّٰہِ اَجْرُکَ وَ یَـرْضٰی عَنْکَ رَبُّکَ وَ یُتِمُّ اسْـمَکَ۔۵۹۔وَعَسٰی اَنْ تُـحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَـرٌّ لَّکُمْ وَ عَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔؎۱ ۵۰۔اور یاد کر وہ وقت جب تیرے پر ایک شخص سراسر مکر سے تکفیر کا فتویٰ دے گا… ۵۱۔وہ اپنے بزرگ ہامان کو کہے گا کہ اس تکفیر کی بنیاد تو ڈال کہ تیرا اثر لوگوں پر بہت ہے اور تُو اپنے فتویٰ سے سب کو افروختہ کرسکتا ہے سو تُو سب سے پہلے اس کفر نامہ پر مُہر لگا تا سب علماء بھڑک اُٹھیں اور تیری مُہر کو دیکھ کر وہ بھی مہریں لگا دیں اور تاکہ مَیں دیکھوں کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے یا نہیں کیونکہ مَیں اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں (تب اس نے مُہر لگادی) ۵۲۔ابو لہب ہلاک ہوگیا اور اُس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے۔(ایک وہ ہاتھ جس کے ساتھ تکفیر نامہ کو پکڑا اور دوسرا وہ ہاتھ جس کے ساتھ مُہر لگائی یا تکفیر نامہ لکھا) ۵۳۔اس کو نہیں چاہیےتھا کہ اس کام میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے۔۵۴۔اور جو تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔۵۵۔جب وہ ہامان تکفیر نامہ پر مُہر لگادے گا تو بڑا فتنہ برپا ہوگا۔پس تو صبر کر جیسا کہ اُولوالعزم نبیوں نے صبر کیا… ۵۶۔یہ فتنہ خدا کی طرف سے فتنہ ہوگا تا وہ تجھ سے بہت محبّت کرے۔۵۷۔جو دائمی محبّت ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی ۵۸۔اور خدا میں تیرا اجر ہے۔خدا تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے نام کو پورا کرے گا۔۵۹۔بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم چاہتے ہو مگر وہ تمہارے لئے اچھی نہیں اور بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم نہیں چاہتے اور وہ تمہارے لئے اچھی ہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۰ تا ۴۱۸ و ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۵۹ تا ۶۵) ۱۹۰۰ء ’’خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر اور مکذّب ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’چونکہ کئی دفعہ کئی ترتیبوں کے رنگ میں یہ الہامات ہوچکے ہیں اِس لئے فقرات کے جوڑنے میں ایک خاص ترتیب کا لحاظ نہیں۔ہر ایک ترتیب فہمِ ملہم کے مطابق الہامی ہے۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۲ حاشیہ)