تذکرہ — Page 334
اپریل ۱۹۰۰ء ’’ ابھی حضرت مولانا؎۱ موصوف ترجمہ؎۲سنا ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس فرطِ جوش بقیہ حاشیہ۔(۳) حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ نے … بیان کیا کہ… حضور نے عربی میں خطبہ پڑھنا شروع فرمایا۔اس عربی خطبہ کے وقت آپ کی حالت اور آواز بہت دھیمی اور باریک ہوجاتی تھی۔تقریر کے وقت آپ کی آنکھیں بند ہوتی تھیں۔تقریر کے دوران میں ایک دفعہ حضور نے حضرت مولوی صاحبان کو فرمایا کہ اگر کوئی لفظ سمجھ نہ آئے تو اسی وقت پوچھ لیں ممکن ہے کہ بعد میں مَیں خود بھی نہ بتا سکوں۔اس وقت ایک عجیب عالم تھا جس کو مَیں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا… آپ نے فرمایا کہ جیسا جیسا کلام اُترتا گیا میں بولتا گیا۔جب یہ سلسلہ بند ہوگیا تو میںنے بھی تقریر کو ختم کردیا۔آپ فرماتے تھے کہ تقریر کے دوران میں بعض اوقات الفاظ لکھے ہوئے نظر آجاتے تھے۔(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۵۹۲،۵۹۳ روایت نمبر ۶۲۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (۴) حضرت بھائی عبد الرحمان صاحبؓ قادیانی روایت کرتے ہیں۔بعض اوقات حضرت مولوی صاحب کو لکھنے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے یا کسی لفظ کے سمجھ نہ آنے کے باعث یا الفاظ کے حروف مثلاً الف اور عین، صاد و سین یا ثا اور ط و ت وغیرہ وغیرہ کے متعلق دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی تو دریافت کرنے پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عجب کیفیت ہوتی تھی اور حضور یوں بتاتے تھے جیسے کوئی نیند سے بیدار ہوکر یا کسی دوسرے عالم سے واپس آکر بتائے اور وہ دریافت کردہ لفظ یا حرف بتانے کے بعد پھر وہی حالت طاری ہوجاتی تھی اور انقطاع کا یہ عالم تھا کہ ہم لوگ یہ محسوس کرتے کہ حضور کا جسد اطہر صرف یہاں ہے، روح حضور پُر نور کی عالم بالا میں پہنچ کر وہاں سے پڑھ کر یا سُن کر بول رہی تھی۔زبان مبارک چلتی تو حضور ہی کی معلوم دیتی تھی مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ بے اختیار ہو کر کسی کے چلائے چلتی ہو۔یہ سماں اور حالت بیان کرنا مشکل ہے۔انقطاع، تبتّل، ربودگی یا حالت مجذوبیّت و بے خودی و وارفتگی اور محویّتِ تامّہ وغیرہ الفاظ میں سے شاید کوئی لفظ حضور کی اس حالت کے اظہار کے لئے موزوں ہوسکے ورنہ اصل کیفیت ایک ایسا روحانی تغیّر تھا جو کم از کم میری قوت بیان سے تو باہر ہے کیونکہ سارا ہی جسم مبارک حضور کا غیر معمولی حالت میں یوں معلوم دیتا تھا جیسے ذرہ ذرہ پر اس کے کوئی نہاں در نہاں اور غیر مرئی طاقت متصرّف و قابو یافتہ ہو۔(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ ۳۶۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (۵) مکرم سید محمود عالم صاحبؓ بیان فرماتے ہیں۔حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے عربی میں خطبہ عید الاضحی پڑھا… تو بعد میں جب اس کی کیفیت پوچھی گئی تو فرمایا کہ فرشتے میرے سامنے موٹے موٹے حروف میں لکھی ہوئی تختی لاتے جاتے تھے جسے میں دیکھ دیکھ کر پڑھتا جاتا تھا۔ایک تختی آتی جب میں ۱ مولانا عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ۔(مرزا بشیر احمد) ۲ خطبہ الہامیہ کاترجمہ۔(مرزا بشیر احمد)