تذکرہ — Page 333
لِلـنَّاظِـرِیْـنَ۔وَ اسْتَـبَـانَ سَبِـیْلُ الْمُـجْـرِمِیْنَ۔وَ لَمْ یَبْقَ مُـعْـرِضٌ اِلَّا الَّـذِیْ حَـبَسَہٗ حِـرْمَانٌ اَ۔زَلِیٌّ۔وَ لَا مُـنْکِـرٌ اِلَّا الَّـذِیْ مَـنَـعَـہٗ عُـدْوَانٌ فِطْرِیٌّ۔فَـنَـتْـرُکُ ھٰٓـؤُلَآءِ بِـسَـلَامٍ۔وَقَدْ تَمَّ الْاِفْـحَـامُ۔وَ تَـحَـقَّـقَ الْاَثَـامُ۔وَ اِنْ لَّـمْ یَـنْـتَـھُـوْا فَالصَّبْرُ جَدِیْـرٌ۔وَ سَـوْفَ یُـنَـبِّـئُـھُمْ خَـبِیْـرٌ۔‘‘٭ (خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۳۱ تا ۷۱) بقیہ ترجمہ۔اور مجرموں کی راہ کھل گئی اور حق سے کنارہ کرنے والا وہی شخص رہا جس کو ازلی محرومی نے روک دیا اور وہی منکر رہا جس کو پیدائشی جورپسندی نے منع کر دیا۔پس ہم ان لوگوں کو سلام کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اور ان پر حجت پوری ہوگئی اور ان کا قابلِ سزا ہونا ثابت ہوگیا پس اگر اب بھی باز نہ آویں پس صبر لائق ہے۔اور عنقریب وہ جو ان کے حالات پر اطلاع رکھتا ہے ان کو متنبہ کردے گا۔٭ (روایات متعلقہ خطبہ الہامیہ) (۱) حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔اس دن صبح کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام عید کے لئے نکلے۔مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے تو آپ نے فرمایا کہ رات کو مجھے الہام ہوا ہے کہ کچھ کلمات عربی میں کہو اس لئے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولوی نور الدین صاحب دونوں کو پیغام بھیجا کہ وہ کاغذ اور قلم دوات لے کر آویں کیونکہ عربی میں کچھ کلمات پڑھنے کا الہام ہوا ہے۔نماز مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھائی اور مسیح موعودؑ نے پھر اردو میں خطبہ فرمایا غالباً کرسی پر بیٹھ کر۔اردو خطبے کے بعد آپ نے عربی خطبہ پڑھنا شروع کیا کرسی پر بیٹھ کر۔اس وقت آپ پر ایک خاص حالت طاری تھی۔آنکھیں بند تھیں۔ہر جملے میں پہلے آواز اونچی تھی پھر دھیمی ہوجاتی تھی۔سامنے بائیں طرف حضرت مولوی صاحبان لکھ رہے تھے۔ایک لفظ دونوں میں سے ایک نے نہ سنا اس لئے پوچھا تو حضرت صاحب نے وہ لفظ بتایا اور پھر فرمایا کہ جو لفظ سنائی نہ دے وہ ابھی پوچھ لینا چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ مجھے بھی یاد نہ رہے۔آپ نے فرمایا کہ جب تک اوپر سے سلسلہ جاری رہا میں بولتا رہا اور جب ختم ہوگیا بس کردی۔(رجسٹر روایات صحابہؓ نمبر ۱۰ صفحہ ۳۰۳،۳۰۴) (۲ ) مولوی شیر علی صاحبؓ نے… بیان کیا کہ بعد خطبہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ یہ خطبہ میری طرف سے نہ تھا بلکہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے الفاظ ڈالے جاتے تھے اور بعض اوقات کچھ لکھا ہوا میرے سامنے آجاتا تھا اور جب تک ایسا ہوتا رہا خطبہ جاری رہا لیکن جب الفاظ آنے بند ہوگئے خطبہ بند ہوگیا۔(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۱۴۸ تا ۱۵۰ روایت نمبر ۱۵۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)