تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 1089

تذکرہ — Page 335

کے ساتھ سجدہ شکر میں جاپڑے۔آپ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدۂ شکر ادا کیا۔سجدہ سے سر اُٹھا کر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ’’ابھی مَیں نے سُرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ مــــــُبارک یہ گویاقبولیت کا نشان ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۴ نمبر ۱۶ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۵) اپریل ۱۹۰۰ء ’’ ایک دفعہ عزیز مرحوم؎۱کی زندگی میں بکثرت اس کی شفا کے لئے دعا کی۔تب خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک ہے گویا وہ چاند کے ٹکڑے اکٹھے کرکے بنائی گئی ہے اور ایک شخص ایوب بیگ کو اس سڑک پر سے لے جارہا ہے او وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے اور نہایت خوش اور چمکیلی ہے گویا زمین پر چاند بچھایا گیا ہے مَیں نے یہ خواب اپنی جماعت میں بیان کی اورتکلف کے طور پر یہ سمجھا کہ یہ صحت کی طرف اشارہ ہے لیکن دل نہیں (بقیہ حاشیہ) وہ سناچکتا تو دوسری تختی آتی اور پہلی چلی جاتی۔اس طرح تختیوں کا سلسلہ رہا۔جب کوئی لکھنے والا پوچھتا تو گئی ہوئی تختی بھی واپس آجاتی جسے دیکھ کر میں بتا دیتا۔(رجسٹر روایات صحابہؓ نمبر ۴ صفحہ ۳۸) (۶) حضرت میاں محمد یٰسین صاحب احمدیؓ بیان فرماتے ہیں۔خطبہ الہامیہ حضور نے عید ذوالحجہ کے دن فرمایا۔خطبہ کے دوران میں حضورؑ کی آواز خلاف معمول بالکل باریک تھی اور نماز کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مَیں جب ایک فقرہ کہہ لیتا تھا تو آگے مجھے علم نہیں ہوتا تھا کہ مَیں کیا کہوں گا۔آگے مجھے لکھا ہوا دکھایا جاتا تھا اور پھر مَیں بولتا تھا۔یہ خطبہ حضور نے بالکل آہستہ آہستہ پڑھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی حضور کو پڑھاتا ہے اور پھر آگے حضور بول رہے ہیں۔اس وقت حضور کی حالت معمول سے بالکل مختلف نظر آتی تھی۔(رجسٹر روایات صحابہؓ نمبر ۱۲ صفحہ ۱۰۲) (۷) سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔آپؑ خطبہ الہامیہ کے شروع میں لکھتے ہیں’’ وَ اِنّیْ عُلِّمْتُـھَا اِلْھَامًا مِّنْ رَّبِّیْ وَ کَانَتْ اٰیَۃً‘‘ کہ یہ خطبہ مجھے خدا تعالیٰ نے الہامًا سکھایا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔خطبہ الہامیہ وہ کتاب ہے جس کا ایک حصہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام کے طور پر نازل ہوا اور جو لوگ یہاں رہتے تھے وہ جانتے ہیں کہ الہامی کلام صفحہ اَڑتیس۳۸ تک کا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کو الہاماً بتایا گیا تھا کہ عربی میں تقریر کرو روح القدس تمہارے ساتھ کھڑا ہو کر تمہارے منہ میں الفاظ ڈالے گا۔اس پر عید کے دن آپ نے خطبہ پڑھا اور وہ مطبوعہ کتاب خطبہ الہامیہ کے اَڑتیس۳۸ صفحہ تک ہے جس کا آخری فقرہ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُـھُمْ خَبِیْرٌ ہے۔پس یہ وہ خطبہ ہے جو الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔(خطاب جلسہ سالانہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۳۳ء انوار العلوم جلد۷ صفحہ ۱۲) ۱ مرزا ایوب بیگ صاحب۔(مرزا بشیر احمد)