تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 1089

تذکرہ — Page 310

اِیْ وَ رَبِّـیْ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ لَّا یَتَبَدَّ۔لُ وَ لَا یَـخْفٰی۔۴۔وَ یَنْزِلُ مَا تَعْـجَبُ مِنْہُ۔۵۔وَحْیٌ مِّنْ رَّبِّ السَّمٰوَاتِ الْعُلٰی۔۶۔اِنَّ رَبِّیْ لَا یَضِلُّ وَلَا یَنْسٰی۔۷۔ظَفَرٌ مُّبِیْنٌ۔۸۔وَ اِنَّـمَا یُؤَخِّرُھُمْ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی۔۹۔اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنَـا مَعَکَ۔۱۰۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْہُ فِیْ غَیِّہٖ یَتَمَطّٰی۔۱۱۔اِنَّہٗ مَعَکَ وَ اِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّـرَّ وَمَا اَخْفٰی۔۱۲۔لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یَعْلَمُ کُلَّ شَیْءٍ وَّ یَـرٰی۔۱۳۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ یُـحْسِنُوْنَ الْـحُسْنٰی۔۱۴۔اِنَّا اَرْسَلْنَا اَحْـمَدَ اِلٰی قَوْمِہٖ فَاَعْرَضُوْا وَقَالُوْا کَذَّابٌ اَشِـرٌ۔وَجَعَلُوْا یَشْھَدُ وْنَ عَلَیْہِ وَیَسِیْلُوْنَ اِلَیْہِ کَمَآءٍ مُّنْـھَمِرٍ۔۱۵۔اِنَّ حِبِّیْ قَرِیْبٌ اِنَّہٗ قَرِیْبٌ مُّسْتَتِرٌ۔(ترجمہ) ۱۔چکی پھرے گی اور قضاو قدر نازل ہو گی یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائے گی جیسا کہ چکی جب گردش کرتی ہے تو وہ حصہ چکی کا جو سامنے ہوتا ہے بباعث گردش کے پردہ میں آجاتا ہے اور وہ حصہ جو پردہ میں ہوتا ہے وہ سامنے آجاتاہے مطلب یہ کہ مقدمہ کی موجودہ حالت میں جو صورتِ مقدمہ حاکم کی نظر کے سامنے ہے جو ہمارے لئے مضراور نقصان رسان ہے یہ صورت قائم نہیں رہے گی اور ایک دوسری صورت پیدا ہو جائے گی جو ہمارے لئے مفید ہے اور جیسا کہ چکی کو گردش دینے سے جو مُنہ کے سامنے حصہ چکی کا ہوتا ہے وہ پیچھے کو چلا جاتا ہے۔اور جو پیچھے کا حصہ ہوتا ہے وہ مُنہ کے سامنے آجاتا ہے اسی طرح جو مخفی اور درپردہ باتیں ہیں وہ منہ کے سامنے آجائیں گی اور ظاہر ہو جائیں گی اور جو ظاہر ہیں وہ ناقابلِ التفات اور مخفی ہو جائیں گی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ ۲۔یہ خدا کا فضل ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے یہ ضرور آئے گا اور کسی کی مجال نہیں جو اُس کو رد کر سکے یعنی آسمان پر یہ فیصلہ یافتہ امر ہے کہ یہ صورت موجودہ مقدمہ کی جس سے یاس اور نومیدی ٹپکتی ہے یک دفعہ اُٹھا دی جائے گی اور ایک اور صورت ظاہر ہو جائے گی جو ہماری کامیابی کے لئے مفید ہے جس کا ہنوز کسی کو علم نہیں۔اور پھر فرمایا کہ ۳۔کہہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے اِس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا ۴۔اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو تجھے تعجب میں ڈالے گی۔۵۔یہ اُس خدا کی وحی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے ۶۔میرا ربّ اس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے ان بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔۷۔سو تمہیں اِس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہوگی ۸۔مگر اس فیصلہ میں اُ س وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقررکر رکھا ہے۔۹۔تُو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔۱۰۔تو کہہ ہر ایک امر میرے خدا کے اختیار میں ہے پھر اس مخالف کو اس کی گمراہی اورناز اور تکبر میں چھوڑ دے (یہ فقرہ وحی الٰہی کا ایک تسلی دینے کا فقرہ ہے کیونکہ جب ہماری نالش کے بعد اکثر قانون دان سمجھ گئے تھے کہ یہ دعویٰ بے بنیاد ہے