تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 1089

تذکرہ — Page 309

نکالتا تھا اور نہ صرف اِسی قدر بلکہ اُس نے یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ ہمارا مقدمہ خارج ہونے کے بعد ایک لمبی دیوار ہمارے گھر کے دروازوں کے آگے کھینچ دے تا ہم قیدیوں کی طرح محاصرہ میں آجائیں اور گھر سے باہر نکل نہ سکیں اور نہ باہر جاسکیں۔یہ دن بڑی تشویش کے تھے یہاں تک کہ ہم ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِـمَا رَحُبَتْ۱؎ کا مصداق ہوگئے اور بیٹھے بیٹھے ایک مصیبت پیش آگئی۔اِس لئے جنابِ الٰہی میں دعا کی گئی اور اُس سے مدد مانگی گئی تب بعد دعا مندرجہ ذیل الہام ہوا۔اور یہ الہام علیحدہ علیحدہ وقت کے نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں ہوا۔مجھے یاد ہے کہ اُس وقت سیّد فضل شاہ صاحب لاہوری برادر سیّد ناصرشاہ صاحب اورسیئر متعین بارہ مولہ کشمیر میرے پیر دبا رہا تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔مَیں نے سیّد صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا۔پس ایسا ہوا کہ ہر ایک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہوکر ایک ایک فقرہ وحی الٰہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا اور جب ایک فقرہ ختم ہوجاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا فقرہ وحیِ الٰہی کا زبان پر جاری ہوتا تھا یہاں تک کہ کُل وحی الٰہی نازل ہوکر سیّد فضل شاہ صاحب لاہوری کے قلم سے لکھی گئی اوراس میں تفہیم ہوئی کہ یہ اُس دیوار کے متعلق ہے جو امام الدین نے کھینچی ہے جس کا مقدمہ عدالت میں دائر ہے اور یہ تفہیم ہوئی کہ انجام کار اِس مقدمہ میں فتح ہوگی چنانچہ مَیں نے اپنی ایک کثیر جماعت کو یہ وحی الٰہی سنادی اور اس کے معنے اور شانِ نزول سے اطلاع دے دی اور اخبار الحکم؎۲ میں چھپوا دیا اور سب کو کہہ دیا کہ اگرچہ مقدمہ اَب خطرناک اور صورت نَومیدی کی ہے مگر آخر خدا تعالیٰ کچھ ایسے اسباب پیدا کردے گا جس میں ہماری فتح ہوگی کیونکہ وحیِ الٰہی کا خلاصہ مضمون یہی تھا۔اب ہم اس وحی الٰہی کو مع ترجمہ ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔۱۔اَلرَّحٰی تَدُوْرُ وَیَنْزِلُ الْقَضَآءُ۔۲۔اِنَّ فَضْلَ؎۳ اللّٰہِ لَاٰتٍ وَّ لَیْسَ لِاَحَدٍ اَنْ یَّـرُدَّ مَا اَتٰی۔۳۔قُلْ ۱ (ترجمہ از ناشر) زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی۔۲ دیکھیے الحکم مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۰۔(شمس) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں’’ عجب بات ہے کہ اِس الہام میں بشارت فضل کے لفظ سے شروع ہوتی ہے اور جس کے ہاتھ سے بروقت نزول یہ وحی قلمبند کرائی گئی اس کا نام بھی فضل ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۸۰ حاشیہ)