تذکرہ — Page 311
ضرور خارج ہو جائے گا اور امام الدین مدعا علیہ کو ہر ایک پہلو سے یہ خبریں مل گئی تھیں کہ قانون کے رُو سے ہماری کامیابی کی سبیل بند ہے تو اِس وجہ سے اُس کا تکبر بہت بڑھ گیا تھا اوروہ دعوے سے کہتا تھا کہ وہ مقدمہ عنقریب خارج ہو جائے گا بلکہ یہی سمجھو کہ خارج ہو گیا اور شریر لوگوں نے اُس کا ساتھ دیا۔چنانچہ یہ بات قریباً تمام گاؤں میں مشہور ہو گئی تھی کہ اس مقدمہ کو ہمارے مخالفوں نے ایسا سمجھ لیا ہے کہ گویا مقدمہ اُن کے حق میں فیصلہ ہو گیا ہے سو اِس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیوں اِس قدر ناز اورر عونت دکھلا رہے ہو ہر ایک امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے اور پھر مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ ۱۱۔وہ قادر تیرے ساتھ ہے اُس کو پوشیدہ باتوں کا علم ہے بلکہ جو نہایت پوشیدہ باتیں ہیں جو انسان کے فہم سے بھی بر تر ہیں وہ بھی اُس کو معلوم ہیں ماحصل اس فقرہ وحی الٰہی کا یہ ہے کہ اس جگہ بھی ایک پوشیدہ امر ہے کہ جو اب تک نہ تجھے معلوم ہے اور نہ تمہارے وکیل کو اور نہ اُس حاکم کو جس کی عدالت میں یہ مقدمہ ہے اور پھر فرمایا کہ ۱۲۔وہی خدا حقیقی معبود ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں انسان کو نہیں چاہیے کہ کسی دوسرے پر توکل کرے کہ گویا وہ اُس کا معبود ہے ایک خدا ہی ہے جو یہ صفت اپنے اندر رکھتا ہے وہی ہے جس کو ہر ایک چیز کا علم ہے اورجو ہر ایک چیز کو دیکھ رہا ہے ۱۳۔اور وہ خدا اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اُس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی نیکی کرتے ہیں تو نیکی کے تمام باریک لوازم کو ادا کرتے ہیں سطحی طور پر نیکی نہیں کرتے اور نہ ناقص طور پر بلکہ اُس کی عمیق در عمیق شاخوں کو بجا لاتے ہیں اور کمال خوبی سے اُس کا انجام دیتے ہیں سو اُنہیں کی خدا مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی پسندیدہ راہوں کے خادم ہوتے ہیں اور اُن پر چلتے ہیں اور چلاتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ ۱۴۔ہم نے احمد کو یعنی اِس عاجز کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا۔پس قوم اُس سے رُو گردان ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ یہ تو کذاب ہے دنیا کے لالچ میں پڑا ہوا ہے یعنی ایسے ایسے حیلوں سے دنیا کمانا چاہتا ہے اور انہوں نے عدالتوں میں اُس پر گواہیاں دیں تا اُس کو گرفتار کرا ویں اور وہ ایک تُندسیلاب کی طرح جو اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے اُس پر اپنے حملوں کے ساتھ گر رہے ہیں۔مگر وہ کہتا ہے کہ ۱۵۔میرا پیارا مجھ سے بہت قریب ہے وہ قریب تو ہے مگر مخالفوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔‘‘؎۱ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۷۸ تا ۲۸۳ ) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ پیشگوئی قبل از وقت بلکہ کئی مہینے فیصلہ سے پہلے عام طور پر شائع ہوچکی تھی اور الحکم اخبار۲؎ میں درج ہوکر دور دراز مُلک کے لوگوں تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی پھر فیصلہ کا دن آیا… سو ایسا ۲ یعنی الحکم مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۰ پر (ناشر)