تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 1089

تذکرہ — Page 267

۱۸۹۷ء ’’میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النّبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بکلّی بند ہیں۔اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کے رُو سے آسکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۵) ۱۸۹۷ء ’’ نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُ۔نِّی رُوْحَ الصِّدْقِ میں نے اپنے پاس سے صدق کی روح تجھ میں پھونکی… اس الہام میں جو لفظ لَدُنْ کا ذکر ہے اُس کی شرح کشفی طور پر یوں معلوم ہوئی کہ ایک فرشتہ خواب میں کہتا ہے کہ یہ مقام لَدُنْ جہاں تجھے پہنچایا گیا یہ وہ مقام ہے، جہاں ہمیشہ بارشیں ہوتی رہتی ہیں اور ایک دم بھی بارش نہیں تھمتی۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ ۷۶) ۱۸۹۷ء ’’ عالَمِ کشف میں مَیں نے دیکھا کہ زمین نے مجھ سے گفتگو کی اور کہا یَـا وَلِیَّ اللّٰہِ کُنْتُ لَا اَعْرِفُکَ یعنی اے خدا کے ولی! مَیں تجھ کو پہچانتی نہ تھی۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ ۸۰) ۱۸۹۷ء ’’ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ان اشتہارات؎۱ کی تقریب پر جو آریہ قوم اور پادریوں اور سکھوں کے مقابل پر جاری ہوئے ہیں۔جو شخص مقابل پر آئے گا۔خدا اُس میدان میں میری مدد کرے گا۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۸۱) بقیہ حاشیہ۔اٰمَنْتُ بِا لَّذِ یْ کا وقت مقدّر ہے۔اس پر پوچھا گیا کہ وہ کیا امر ہے جس کی و جہ سے یہ آخری سعادت اس کے لئے مقدّر ہے۔فرمایا۔یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔مگر اُس نے ایک کام تو کیا ہے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا اور وہ واقعی اخلاص سے لکھا تھا کیونکہ اُس وقت اُس کی یہ حالت تھی کہ بعض اوقات میرے جوتے اُٹھا کر جھاڑ کر آگے رکھ دیا کرتا تھا اور ایک بار مجھے اپنے مکان میں اس غرض سے لے گیا کہ وہ مبارک ہوجاوے اور ایک بار اصرار کرکے مجھے وضو کرایا۔غرض بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ مَیں قادیان ہی میں آکر رہوں مگر مَیں نے اُس وقت اُسے یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔اس کے بعد اسے یہ ابتلا پیش آگیا۔کیا تعجب ہے کہ اس اخلاص کے بدلے میں خدا نے اس کا انجام اچھا رکھا ہو۔‘‘ ( الحکم مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷،۸) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) ان اشتہارات سے مراد ۱۵،۲۲؍مارچ و ۵ ، ۱۱،۱۶، ۱۸، ۲۷؍اپریل ۱۸۹۷ء کے اشتہارات ہیں جن میں لیکھرام کے قتل کا ذمہ دار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قرار دینے والے تمام لوگوں کے سامنے ایک فیصلہ کن طریق پیش کرکے انہیں اس کی طرف بلایا گیا تھا مگر ان میں سے کسی کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔