تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 1089

تذکرہ — Page 268

۱۸۹۷ء ’’مجھے میرے خدا نے مخاطب کرکے فرمایا ہے۔اَلْاَرْضُ وَ السَّمَآءُ مَعَکَ کَما ھُـوَ؎۱ مَعِیْ۔قُلْ لِّیَ الْاَرْضُ وَالسَّمَآءُ قُلْ لِّیْ سَلَامٌ۔فِیْ مَقْعَدِ صِدْ۔قٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔یَـاْتِیْ نَصْـرُ اللّٰہِ۔اِنَّـا سَنُنْذِرُ الْعَالَمَ کُلَّہٗ۔اِنَّا سَنَنْزِلُ۔اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا۔یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔کہہ آسمان اور زمین میرے لئے ہے۔کہہ میرے لئے سلامتی ہے وہ سلامتی جو خدا قادر کے حضور میں سچائی کی نشست گاہ میں ہے۔خدا اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں اور جن کا اُصول یہ ہے کہ خلق اللہ سے نیکی کرتے رہیں۔خدا کی مدد آتی ہے ہم تمام دُنیا کو متنبہ کریں گے۔ہم زمین پر اُتریں گے۔مَیں ہی کامل اور سچا خدا ہوں میرے سوا اور کوئی نہیں۔‘‘ (سراجِ منیر۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۸۳،۸۴) ۱۸۹۷ء ’’ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصّہء ِ دنیا پر محیط ہوگئے ہیں اور ایک عمر پاگئے ہیں اور ایک زمانہ اُن پر گزر گیا ہے اُن میں سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیت کے رُو سے جھوٹا نہیں اور نہ اُن نبیوں میں سے کوئی نبی جھوٹا ہے۔‘‘ (تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ ۲۵۶) ۱۸۹۷ء ’’نامبردہ؎۲ نے خَلوت کی ملاقات میں سلطان روم کے لئے ایک خاص دعا کرنے کے لئے درخواست کی اور یہ بھی چاہا کہ آئندہ اُس کے لئے جو کچھ آسمانی قضاء قدر سے آنے والا ہے اُس سے وہ اطلاع پاوے۔مَیں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور مَیں کشفی طریق سے اُس کے ارکان؎۳کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کو اپنی بدقسمتی سے بہت بُری معلوم ہوئیں۔مَیں نے کئی اشارات سے اس بات پر ’’ضمیر ھُوَ اس تاویل سے ہے کہ اس کا مرجع مخلوق ہے۔‘‘ (سراجِ منیر۔روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ ۸۳ حاشیہ) ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی حسین کامی سفیر سلطانِ روم جو ۱۸۹۷ء میں قادیان آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملا تھا۔۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’واضح ہوکہ عرصہ تخمیناً دو۲ماہ یا تین ماہ کا گزرا ہے کہ ایک معزز تُرک کی معرفت ہمیں یہ خبرملی تھی کہ حسین کامی مذکور ایک ارتکابِ جُرم کی وجہ سے اپنے عہدہ سے موقوف کیا گیا ہے اور اس کی املاک