تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 1089

تذکرہ — Page 205

۱۸۹۳ء ’’ میرے خدا نے یہ ظاہر کیا کہ چھ برس تک لیکھرام بذریعہ قتل نابود ہوجائے گا … اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ اس کے مَرنے کے تھوڑی مدّت کے بعد پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی۔‘‘ (از مکتوب بنام لالہ بھیم سین صاحب۔مکتوباتِ احمد جلد ۱ صفحہ ۹۱۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۳ء ’’ اِس کتاب؎۱کی تحریر کے وقت دو۲ دفعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مجھ کو ہوئی اور آپ نے اس کتاب کی تالیف پر بہت مسرت ظاہر کی۔اور ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فرشتہ بلند آواز سے لوگوں کے دلوں کو اس کتاب کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے۔ھٰذَا کِتَابٌ مُّبَارَکٌ فَقُوْمُوْا لِلْاِجْلَالِ وَالْاِکْرَامِ یعنی یہ کتاب مبارک ہے اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔‘‘ (’’اشتہار‘‘ مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۶۵۲) ۲۵؍ فروری ۱۸۹۳ء ’’آج رات مَیں نے جو ۲۵؍فروری ۱۸۹۳ء کی رات تھی۔شیخ؎۲صاحب کی اِن باتوں؎۳سے سخت درد مند ہوکر آسمانی فیصلہ کے لئے دُعا کی۔خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک دوکاندار کی طرف مَیں نے کسی قدر قیمت بھیجی تھی کہ وہ ایک عمدہ اور خوشبودار چیز بھیج دے۔اُس نے قیمت رکھ کر ایک بدبودار چیز بھیج دی۔وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا اور مَیں نے کہا کہ جاؤ دوکاندار کو کہو کہ وہی چیز دے ورنہ مَیں اس دَغا کی اُس پر نالش کروں گا اور پھر عدالت سے کم سے کم چھ ماہ کی اُس کو سزا ملے گی اور امید تو زیادہ کی ہے۔تب دوکاندار نے شاید یہ کہلا بھیجا کہ یہ میرا کام نہیں یا میرا اختیار نہیں اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا کہ ایک سودائی پھرتا ہے اُس کا اثر میرے دل پر پڑگیا اور مَیں بھول گیا اور اب وہی چیز دینے کو تیار ہوں۔اِس ۱ یعنی آئینہ کمالاتِ اسلام (شمس) ۲ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور (مرزا بشیر احمد) ۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) شیخ مہر علی صاحب کی نسبت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے قید ہونے سے چھ ماہ قبل بذریعہ ایک خواب اطلاع دی تھی کہ اس کی جائے نشست فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور حضرت نے اس پر پانی ڈال کر بجھایا ہے۔اس ابتلا اور مصیبت سے حضرت اقدس نے اُسی وقت شیخ صاحب کو خبر دے دی اور توبہ اور استغفار کی طرف توجہ دلائی لیکن بعد رہائی شیخ صاحب نے حضرت کے اس خط سے انکار کردیا بلکہ اُلٹا یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ خط تو کوئی نہیں لکھا مگر اِس مضمون کا جھوٹا بیان مجھ سے لکھوانا چاہتے تھے۔اِس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ صاحب کے اسی دِل آزار رویہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔