تذکرہ — Page 206
اِس کی مَیں نے یہ تعبیر کی کہ شیخ صاحب پر یہ ندامت آنے والی ہے اور انجام کار وہ نادم ہوں گے اور ابھی کسی دوسرے آدمی کا اُن کے دل پر اثر ہے۔‘‘ (اشتہار شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور صفحہ ۷، مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۶۵۵، ۶۵۶) ۱۸۹۳ء ’’پھر مَیں نے توجہ کی تو مجھے یہ الہام ہوا۔اِنَّـا نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ۔نُقَلِّبُ فِی السَّمَآءِ مَا قَلَّبْتَ فِی الْاَرْضِ اِنَّـا مَعَکَ نَرْفَعُکَ دَرَجَاتٍ۔یعنی ہم آسمان پر دیکھ رہے ہیں کہ تیرا دل مہر علی کی خیر اندیشی سے بد دعا کی طرف پھر گیا۔سو ہم بات کو اُسی طرح آسمان پر پھیردیں گے جس طرح تو زمین پر پھیرے گا۔ہم تیرے ساتھ ہیں تیرے درجات بڑھائیں گے۔‘‘ (اشتہار شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور صفحہ۸ مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۵۶) ۱۸۹۳ء ’’ خواب میں مَیں نے دیکھا کہ اس؎۱کے گھر میں آگ لگ گئی اور پھر مَیں نے اُس کو بجھایا… بعد میں شیخ مہر علی کی نسبت ایک اور پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ ایک اور سخت بلا میں مبتلا ہوگا چنانچہ بعد اس کے وہ مرض فالج میں مبتلا ہوگیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۳۳) ۱۸؍ مارچ ۱۸۹۳ء (الف) ’’آج جو ۲۹؍ شعبان ۱۳۱۰ھ ہے اِ س مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کے لئے دل کھول دیا۔سو مَیں نے اِس وقت اسی طرح سے رِقّتِ دل سے اس مقابلہ؎۲ میں فتح پانے کے لئے دعا کی اور میرا دل کُھل گیا اور مَیں جانتا ہوں کہ قبول ہوگئی اور مَیں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَـتَکَ وہ اسی موقع کے لئے ہوا تھا۔مَیں نے اس مقابلہ کے لئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۶۰۴) (ب) (خدا تعالیٰ نے) ’’مجھ کو بشارت دی کہ اگر میاں بطالوی یا کوئی دوسرا اُس کا ہم مشرب مقابلہ ؎۳پر آئے تو شکست فاش اٹھا کر سخت ذلیل ہوگا۔‘‘ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۴۶) ۱ یعنی شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور۔(مرزا بشیر احمد) ۲ ، ۳ مقابلہ تفسیر نویسی۔(شمس)