تذکرہ — Page 204
’’یعنی اے لیکھرام تُو کیوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تلوار سے جو تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردے گی کیوں نہیں ڈرتا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰۱) ۱۸۹۳ء (الف) ’’اس عاجز نے اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں… لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو اُن کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں۔سو اس اشتہار کے بعد… لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اِس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کردو۔میری طرف سے اجازت ہے سو اُس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔عِـجْلٌ جَسَدٌ لَّہٗ خُوَارٌ۔لَہٗ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ یعنی یہ صرف ایک بے جان گو سالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اُس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدّر ہے جو ضرور اس کو مل رہے گا۔‘‘ (اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء مشمولہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۴۹، ۶۵۰) (ب) ’’یہ گوسالہ بے جان ہے جس میں رُوحانیت کی جان نہیں۔صرف آواز ہی آواز ہے پس وہ سامری کے گوسالہ کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا۔یاد رہے کہ عبارت لَہٗ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ کی تصریح موافق تفہیم الٰہی یہ ہے کہ لَہٗ کَمِثْلِہٖ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰۰) ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء (الف) ’’ آج جو ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبہ ہے۔اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو بیس فروری ۱۸۹۳ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی اُن بے ادبیوں کی سزا میں جو اِس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہوجائے گا۔‘‘ (اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء مشمولہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۵۰ ) (ب) ’’لیکھرام کے متعلق ایک یہ پیشگوئی تھی کہ یُقْضٰی اَمْرُہٗ فِیْ سِتٍّ یعنی چھ میں اس کاکام تمام کیا جائے گا… اس پیشگوئی کا جیسا کہ مفہوم ہے ایسا ہی ظہور میں آیا۔یعنی لیکھرام چھ مارچ کو زخمی ہوا اور دن کے چھٹے گھنٹے میں زخمی ہوا۔‘‘ (استفتاء اُردو۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۱۲۵ حاشیہ)