تذکرہ — Page 193
۱۸۹۳ء ’’ ھُوَ نَـادَانِیْ وَ قَالَ قُلْ لِّعِبَادِیْ اِنَّنِیْ اُمِرْتُ وَ اَنَـا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘۱؎ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۳۶۷) ۱۸۹۳ء ’’ نَـا؎۲دَانِیْ رَبِّیْ مِنَ السَّمَآءِ اَنْ ۱۔اِصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَقُـمْ وَ اَنْذِرْ فَاِنَّکَ مِنَ الْمَامُوْرِیْنَ۔۲۔لِتُنْذِ۔رَ قَوْمًا مَّا اُنْذِ۔رَ اٰبَآؤُھُمْ۔۳۔وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔۴۔اِنَّـا جَعَلْنَاکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ لِاُتِمَّ حُـجَّتِیْ عَلٰی قَوْمٍ مُّتَنَصِّـرِیْنَ۔۵۔قُلْ ھٰذَا فَضْلُ رَبِّیْ۔۶۔وَ اِنِّیْ اُجَرِّدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُـرُوْبِ الْـخِطَابِ۔۷۔وَ اُمِرْتُ مِنَ اللّٰہِ وَ اَنَـا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔۸۔اِنَّہٗ یَـرَی الْاَوْقَاتَ وَ یَعْلَمُ مَصَالِـحَھَا۔۹۔وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَ۔ہٗ خَزَآئِنُہٗ ۱۰۔اِنَّـمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ۔۱۱۔قُلْ اَتَعْــجَبُوْنَ مِنْ فِعْلِ اللّٰہِ۔۱۲۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَعْــجَبُ الْعَـجِیْبِیْنَ۔۱۳۔یَـرْفَعُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَضَعُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یُعِزُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یُذِ۔لُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَـجْتَبِیْ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآءُ۔۱۴۔لَایُسْئَلُ ۱ (ترجمہ از مرتّب) اس نے مجھے پکار کر فرمایا کہ میرے بندوں سے کہہ دے کہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) میرے ربّ نے مجھے آسمان سے پکار کر فرمایا کہ ۱ تُو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے ماتحت یہ کشتی تیار کر اور اُٹھ اور (لوگوں کو آنے والے عذابوں سے) ڈرا۔کیونکہ تو مامور ہے کہ ۲ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادوں کے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا ۳اور تاکہ مجرموں کی راہ اچھی طرح ظاہر ہوجائے۔۴ہم نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا ہے تاکہ نصرانیت کو اختیار کرنے والے لوگوں پر مَیں اپنی حجّت پوری کروں۔۵تو کہہ کہ یہ میرے ربّ کا فضل ہے ۶اور مَیں اپنے آپ کوہر قسم کے خطابوں سے الگ رکھتا ہوں۔۷اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا ہے اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔۸وہ اوقات کو دیکھتا اور ان کے مصالح کو جانتا ہے ۹اور ہر چیز کے اس کے پاس خزانے ہیں ۱۰جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے۔ہوجا۔پس وہ ہوجاتی ہے۔۱۱تو کہہ کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے فعل پر تعجب کرتے ہو۔۱۲تو کہہ کہ اللہ کی شان نہایت عجیب ہے ۱۳وہ جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گرادیتا ہے۔جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی جناب