تذکرہ — Page 179
۲۷؍ ستمبر۱؎ ۱۸۹۲ء ’’ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمٰعیل کا (جن کی عمر اُس وقت دس برس کی تھی) پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے اور پھر خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحاق بھی فوت ہوگیا ہے اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں۔اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے… تب مجھے اس تشویش میں یک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا۔اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ یعنی اے عورتو! تمہارے فریب بہت بڑے ہیں … اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے۔تب مَیں نے… شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا پٹیالہ روانہ کیا جس نے واپس آکر بیان کیا کہ اسحٰق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۱۰،۶۱۱ ) ۳۰؍ستمبر۱۸۹۲ء ۱۔ظُلُمَاتُ الْاِبْتِلَآءِ۔۲ ھٰذَا یَـوْمٌ عَصِیْبٌ۔۳۔یُـوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ وَ یُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ۔۴۔اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ۔۵۔ظُلُمَاتُ الْاِبْتِلَآءِ۔۶ ھٰذَا یَـوْمٌ عَصِیْبٌ۔۷۔اَجِیْٓئُ مِنْ حَضْـرَۃِ الْوِتْرِ۔؎۲ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۰) ۴؍اکتوبر۱۸۹۲ء ۱ عَفَی؎۳ اللّٰہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ۔۲ اِنَّـمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ لِشَیْءٍ اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ ۱ (نوٹ از ناشر) یہ تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متفرق یادداشتوں کے رجسٹر میں صفحہ ۴۴ پر درج ہے۔نیز تفصیل یوں درج ہے۔’’۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۲ء کو پٹیالہ سے ایک برنگ خط آیا جس میں لکھا تھا کہ اسحاق اور اسحاق کی والدہ فوت ہوگئیں۔اس سے بڑا فکر گزرا اور اسی دن حامد علی کو پٹیالہ کی طرف روانہ کیا۔رات کو الہام ہوا اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ کچھ مکر ہے۔اسی دن کو یہ الہام مولوی عبد الکریم صاحب اور محمود کی والدہ کو سنایا گیا۔آج ۲۹؍ ستمبر ۱۸۹۲ء کو میر ناصر نواب صاحب کا خط آیا کہ زندہ ہیں اور تصدیق الہام کی ہوگئی۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱ ابتلاء کے اندھیرے۔۲ یہ سخت دن ہے۔۳ تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا اور فضل تیرے نزدیک ہوگا۔۴میرا نور قریب ہے۔۵ ابتلاء کے اندھیرے۔۶ یہ سخت دن ہے۔۷ میں جنابِ باری سے آتا ہوں۔۳ (ترجمہ از مرتّب) ۱ اللہ تجھے معاف کرے ان کو تو نے کیوں اجازت دی۔۲ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی