تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 1089

تذکرہ — Page 166

کردے گا۔وہ کسی جھوٹے، حد سے بڑھنے والے کا رہنما نہیں ہوتا۔۱۱چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نُور کو بُجھا دیں مگر خدا اُسے پُورا کرے گا اگرچہ مُنکر لوگ کراہت ہی کریں۔۱۲ہمارا ارادہ یہ ہے کہ کچھ اسرار تیرے پر آسمان سے نازل کریں اور دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور فرعونؔ اور ہامانؔ اور ان کے لشکروں کو وہ باتیں دکھا دیں جن سے وہ ڈرتے ہیں۔۱۳ہم نے کُتّوں کو تیرے پر مُسلّط کیا اور درندوں کو تیری بات سے غصّہ دلایا اور سخت آزمائش میں تجھے ڈال دیا ۱۴سو تو اُن کی باتوں سے کچھ غم نہ کر۔تیرا ربّ گھات میں ہے۔۱۵وہ خدا جو رحمان ہے وہ اپنے خلیفہ سلطان کے لئے مندرجہ ذیل حکم صادر کرتا ہے کہ ۱۶ اس کو ایک ملک عظیم دیا جائے گا اور خزائن علوم و معارف اس کے ہاتھ پر کھولے جائیں گے اور زمین اپنے ربّ کے نور سے روشن ہوجائے گی۔۱۷ یہ خدائے تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۵۶۵، ۵۶۶ ) ۱۸۹۱ء ’’ جب مولوی محمد حسین صاحب نے ہمارے کفر کا فتویٰ دیا اور لوگوں کو بھڑکایا کہ یہ مسلمان نہیں۔ان کے جنازے درست نہیں اور ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ ہونے دیا جاوے۔اُس وقت چونکہ بُغض و عداوت بڑھ گئی تھی۔ہم گویا تنہا رہ گئے۔اُس وقت مَیں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی شکل پر ایک شخص آیا ہے مگر مجھے فوراً معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے۔مَیں نے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو ؟ اُس نے کہا کہ جِئْتُ مِنْ حَضْـرَۃِ الْوِتْرِ میں جنابِ باری سے آیا ہوں۔میں نے کہا کہ کیوں؟ اُس نے کہا کہ بہت سے لوگ تم سے الگ ہوگئے ہیں اور تمہاری عداوت میں بڑھتے جاتے ہیں۔یہ پیغام دینے آیا ہوں۔مَیں نے اُس کو الگ ہو کر ایک بات کہنی چاہی۔جب وہ الگ ہوا تو مَیں نے کہا کہ لوگ تو مجھ سے علیحدہ ہوگئے ہیں مگر کیا تم بھی الگ ہوگئے ہو؟ اُس نے کہا نہیں۔ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔معاً میری حالت ِ کشف اس پر جاتی رہی۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر ۲مورخہ۱۷؍جنوری۱۹۰۳ء صفحہ۶۔البدر جلد ۱نمبر۱۲ مورخہ۱۶؍جنوری۱۹۰۳ء صفحہ۹۰) ؎۱ ۱۸۹۱ء ’’چونکہ میری توجہ پر مجھے ارشاد ہوچکا ہے کہ اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ۱ نیز دیکھیے انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۵۴۔(عبد اللطیف بہاولپوری)