تذکرہ — Page 167
اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ؎۱ تقویٰ کا طریق چھوڑ کر ایسی گستا خی؎۲کریں گے اورآیت لَاتَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ۳؎ کو نظرانداز کردیں گے تو ایک سال تک اس گستاخی کا آپ پر ایسا کھلا کھلا اثر پڑے گا جو دوسروں کے لئے بطور نشان کے ہوجائے گا۔‘‘ (از اشتہار۱۷؍اکتوبر ۱۸۹۱ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۲۹۰۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) نومبر۱۸۹۱ء ’’ رَاَیْتُنِیْ٭ فِی الْمَنَامِ عَیْنَ اللّٰہِ وَتَیَقَّنْتُ اَنَّنِیْ ھُوَ وَلَمْ یَبْقَ لِیْ اِرَادَۃٌ وَّ لَا خَطْرَۃٌ وَّ لَا عَـمَلٌ مِّنْ جِھَۃِ نَفْسِیْ وَ صِـرْتُ کَـاِنَـاءٍ مُّنْثَلِمٍ بَلْ کَشَیْءٍ تَاَ بَّطَہٗ شَیْءٌ اٰخَرُ وَاَخْفَاہُ فِیْ نَفْسِہٖ حَتّٰی مَا بَقِیَ مِنْہُ اَثَرٌ وَّ لَا رَآئِـحَۃٌ وَّ صَارَ کَا لْمَفْقُوْدِ یْنَ۔وَاَعْنِیْ؎۴ بِعَیْنِ اللّٰہِ رُجُوْعَ الظِّلِّ اِلٰی اَصْلِہٖ وَغَیْبُوْبَتَہٗ فِیْہِ کَمَا یَـجْرِیْ مِثْلُ ھٰذِہِ الْـحَالَاتِ فِیْ بَعْضِ الْاَوْقَاتِ عَلَی الْمُحِبِّیْنَ۔وَتَفْصِیْلُ ذَالِکَ اَنَّ اللّٰہَ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا مِّنْ نِّظَامِ الْـخَیْرِ جَعَلَنِیْ مِنْ تَـجَلِّیَاتِہِ الذَّاتِیَّۃِ بِـمَنْزِلَۃِ مَشِیَّتِہٖ وَعِلْمِہٖ وَجَوَارِحِہٖ وَتَوْحِیْدِہٖ وَتَفْرِیْدِہٖ لِاِتْـمَامِ (مضمون بالا کا مفہوم بزبان اُردو حضرت اقدسؑ کے الفاظ میں ) ’’مَیں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ مَیں خود خدا؎۵ ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور مَیں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہوگیا ہوں یا اس شَے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اُسے اپنے اندر بالکل مخفی کرلیا ہویہاں تک کہ اُس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔۱ مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی۔(مرزا بشیر احمد) ۲ یعنی یہ جسارت کہ ’’ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سن کر اللہ جلّ شانہٗ کی تین مرتبہ قَسم کھا کر یہ کہہ دیجئے کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیںاور صحیح اور یقینی امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابنِ مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں۔‘‘ (اشتہار۱۷ ؍اکتوبر۱۸۹۱ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۲۹۰۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۳ (ترجمہ از ناشر) وہ موقف اختیار نہ کر جس کا تجھے علم نہیں۔(بنی اسرائیل: ۳۷) ۴ (ترجمہ از ناشر) اور عین اللہ سے میری مراد ظل کا اپنے اصل کی طرف لوٹ جانا اور اس میں اس کا فنا ہوجانا ہے جیسا کہ بعض اوقات ایسی حالتیں محبّین پر طاری ہوتی رہتی ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خیر کے نظام میں سے کسی بات کا ارادہ فرمایا تو مجھے اپنی ذاتی تجلیات سے بمنزلہ اپنی مشیت،اپنے علم، اپنے اعضاء، اپنی توحید اور تفرید بنا دیا ۵ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) خواب میں اگر کوئی دیکھے کہ وہ خدا بن گیا ہے۔تو اس کی یہ تعبیر ہوگی۔’’اِھْتَدٰی اِلَی الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمِ۔‘‘ (تعطیرالانام از ابن سیرینؒ باب الالف صفحہ ۹) کہ اس شخص کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت ملی۔