تذکرہ — Page 156
۱۸۹۱ء ’’پھر وہ منصور؎۱مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے۔خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اُس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۹ حاشیہ) ۱۸۹۱ء ’’الہام ہوا قُلْ لَّوْ کَانَ الْاَمْرُمِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدْتُّمْ فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔قُلْ لَّوِاتَّبَعَ اللّٰہُ اَھْوَآءَکُمْ لَفَسَدَ۔تِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْـھِنَّ وَلَبَطَلَتْ حِکْمَتُہٗ۔وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْـمًا۔قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَالْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِـمِثْلِہٖ مَدَ۔دًا۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْـمًا۔؎۲ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ اِن علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔میری عبادت گاہ میں اِن کے چُولہے ہیں۔میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کُتر رہے ہیں۔(ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستانی میں سکوریاں کہتے ہیں۔عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اس کے لشکر یعنی اس کی جماعت کا سردار وسرگروہ ایک توفیق یافتہ شخص ہو گا جس کو آسمان پر منصور کے نام سے پکاراجاوے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ اس کے خادمانہ ارادوں کا جو اس کے دل میں ہوں گے آپ ناصر ہوگا۔اس جگہ اگرچہ اُس منصور کو سپہ سالار کے طور پر بیان کیا ہے مگر اس مقام میں درحقیقت کوئی ظاہری جنگ وجدل مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی فوج ہوگی کہ اُس حارث کو دی جائے گی۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۸، ۱۴۹ حاشیہ) ۲ (ترجمہ از مرتّب) کہہ کہ اگر یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا بلکہ غیر اللہ کی بناوٹ ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے۔کہہ کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے خیالاتِ باطلہ کی پیروی کرتا تو آسمان و زمین اور ان کے اندر رہنے والی مخلوق میں فساد برپا ہوجاتا اور حکمتِ الٰہی باطل ہوجاتی اور اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے۔کہہ کہ اگر سمندر میرے ربّ کی باتوں (کے لکھنے) کے لئے روشنائی بن جاتے تو میرے ربّ کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجاتے اگرچہ ہم اتنے ہی اور (سمندر) ان میں شامل کرکے انہیں بڑھاتے۔کہہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔اللہ تعالیٰ تم سے محبّت کرے گا اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔