تذکرہ — Page 155
گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیّت پائی جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ نے مسیح کے اُترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رُو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دمشق پایۂ تخت یزید ہوچکا ہے اور یزیدیوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزار ہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے وہ دمشق ہی ہے… سو خدائے تعالیٰ نے اُس دمشق کو جس سے ایسے پُر ظلم احکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگ دل اور سیاہ دروں لوگ پیدا ہوگئے تھے اِس غرض سے نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈ کوارٹر ہوگا کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ لعنت کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۴ تا ۱۳۷ حاشیہ) ۱۸۹۱ء ’’قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ اُخْرِجَ مِنْہُ الْیَزِیْدِ یُّوْنَ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۳۸ حاشیہ) ۱۸۹۱ء (الف) ’’ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارثؔ نام یعنی حر ّاث ؎۱ آنے والا جو ابوداؤد کی کتاب میں لکھا ہے یہ خبر صحیح ہے اور یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی درحقیقت یہ دونوں اپنے مصداق کی رُو سے ایک ہی ہیں۔یعنی اِن دونوں کا مصداق ایک ہی شخص ہے جو یہ عاجز ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۳۵ حاشیہ) (ب) ’’یہ پیشگوئی جو ابوداؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حر ّاث ماورائے نہر سے یعنی سمر قند کی طرف سے نکلے گاجو آلِ رسول کو تقویّت دے گا جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی۔الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۴۱حاشیہ) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حارث کے معنے زمیندار کے ہیں اور حَرّاث سے مراد بڑا زمیندار ہے اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں پائی جاتی ہے۔