تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 1089

تذکرہ — Page 144

اشاعت یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ۲۱۴) ۱۸۸۸ء ’’ مجھے ایک خواب میں اُس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا؎ اے فخر رُسل قُرب تو معلومم شد دیر آمدۂٖ ز راہِ دُور آمدۂ ؎۱ (اشتہارتکمیل تبلیغ مورخہ ۱۲؍جنوری۱۸۸۹ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۲۰۸ حاشیہ۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۸۸ء (الف) ’’ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰؍ فروری۱۸۸۶ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے پہلے بشیرؔ کی نسبت پیشگوئی ہے کہ جو رُوحانی طور پر نزولِ رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیرؔ کی نسبت ہے۔‘‘ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۳ حاشیہ) (ب) ’’اور یہ دھوکہ کھانا نہیں چاہیے کہ جس پیشگوئی کا ذکر ہوا ہے وہ مصلح موعود کے حق میں ہے کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفّٰی کے حق میں ہیں اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اُس کے ساتھ فضل ہے کہ جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل ؔ رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اُس کا محمودؔ اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اُس کا نام فضلِ عمر ظاہر کیاگیا ہے اور ضرور تھا کہ اُس کا آنا معرضِ التوا میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہوگیا ہے پیدا ہوکر پھر واپس اُٹھایا جاتا کیونکہ یہ سب امور حکمت ِ الٰہیہ نے اُس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے اور بشیر اوّل جو فوت ہوگیا ہے بشیر ثانی کے لئے بطور ارہاص تھا اِس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔‘‘ ؎۱ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۷ حاشیہ) ۱۸۸۸ء (الف) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت ِ مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدّارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت؎۱ کریں۔پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں اُنہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں اُن کا غمخوار ہوں گا اور اُن کا بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دُعا اور میری ۱ (ترجمہ از مرتّب) اے رسُولوں کے فخر تیرا خدا کے نزدیک مقامِ قرب مجھے معلوم ہوگیا ہے تُو دیر سے آیا ہے (اور) دُور کے راستہ سے آیا ہے۔