تذکرہ — Page 143
(سِـرّالـخلافۃ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۸۱) ۱۸۸۸ء (الف) ’’خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے۔وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔یَـخْلُـقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ۔‘‘ (سبز اشتہار مورخہ یکم دسمبر۱۸۸۸ء۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۳ حاشیہ) (ب) ’’ ایک الہام میں اس دوسرے فرزند کا نام بھی بشیرؔ رکھا ہے چنانچہ فرمایا کہ دوسرا بشیر تمہیں دیا جائےگا یہ وہی بشیرؔ ہے جس کا دوسرا نام محمودؔ ہے جس کی نسبت فرمایا کہ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔یَـخْلُـقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۸۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (ج) ’’خدائے عزّوجلّ نے… اپنے لُطف و کرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اوّل کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا نام محمودؔ بھی ہوگا اور ا س عاجز کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ (اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ ۱۲؍ جنوری۱۸۸۹ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۲۰۷ حاشیہ۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۸۸ء ’’میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمودؔ ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا یہ پایا کہ مـــــــــــحـــــــــــــــمـــــــــود تب میں نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھاپا جس کی تاریخ بقیہ ترجمہ۔یقیناً صبر کرنے والوں کو بغیر حساب ان کا اجر دیا جائے گا۔۱ (ترجمہ از مرتّب) میرا ایک لڑکا جس کا نام بشیر احمد تھا شیر خوارگی کے ایام میں فوت ہوگیا اور حق یہ ہے کہ جن لوگوں نے تقویٰ اور خشیت ِ الٰہی کے طریق کو اختیارکرلیا ہو اُن کی نظر اللہ تعالیٰ پر ہی ہوتی ہے۔اس وقت مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم محض اپنے فضل اور احسان سے وہ تجھے واپس دیں گے۔(یعنی اس کا مثیل عطا ہوگا۔سو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا بیٹا عطا کیا۔شمس)