تذکرہ — Page 145
توجہ میں اُن کے لئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان طیار ہوں گے۔یہ ربّانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچا دیا ہے۔اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے۔اِذَا عَـزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِـاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا۔اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّـمَا یُـبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَـوْقَ اَیْدِیْـھِمْ۔‘‘ ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) مورخہ۱۲؍جنوری۱۸۸۹ء کو جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ پیدا ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی پیدائش کی اطلاع اس اشتہار کے ذریعہ جس کا عنوان ’’تکمیل تبلیغ‘‘ تھا۔یوں شائع فرمائی۔’’ خدائے عزّوجلّ نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء اور اشتہار یکم دسمبر۱۸۸۸ء میں مندرج ہے اپنے لطف وکرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اوّل کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہوگا اور اِس عاجز کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔سو آج ۱۲؍جنوری۱۸۸۹ء میں مطابق ۹جمادی الاوّل۱۳۰۶ھ روز شنبہ میں اس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہوگیا ہے جس کا نام بالفعل محض تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہوگا اور اگر مدّتِ مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدائے عزّوجلّ اُس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کرلے۔مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ جاری ہوا تھا ؎ اے فخر رسل قرب تو معلومم شد دیر آمدۂٖ ز راہِ دُور آمدۂٖ پس اگر حضرت باری جلّ شانہٗ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر دیر ہے جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس کا نام بطور تفاؤل بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا۔‘‘ (اشتہار تکمیل تبلیغ مطابق ۱۲؍ جنوری۱۸۸۹ء۔مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ ۲۰۷، ۲۰۸ حاشیہ۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو ہی قرار دیا اور تفاؤل کے طور پر نام بھی بشیر الدین محمود رکھا مگر کامل انکشاف کے بعد صحیح اطلاع دینے کا وعدہ فرمایا۔سو حضور علیہ السلام ایفائے عہد فرماتے ہیں اور اس امر کے متعلق مختلف کتب میں اطلاع دیتے ہیں۔(الف) ’’محمود جو بڑا لڑکا ہے اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیشگوئی مع محمود کے نام کے