تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 1089

تذکرہ — Page 138

کَذَّ۔بُـوْا بِـاٰیٰتِنَا وَ کَانُـوْا بِـھَا یَسْتَـھْزِءُوْنَ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَ یَـرُدُّ۔ھَا اِلَیْکَ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنَـا مَعَکَ۔عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّـحْمُوْدًا۔یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کررہے تھے۔سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اُس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس بقیہ حاشیہ۔فِیْ صَنْدُ۔وْقِکَ فَاِنَّہٗ مِنْ صَدُ۔وْقٍ اَمِیْنٍ۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَنَّنِیْ فِیْہِ صَادِقٌ وَکُلُّ مَا وَعَدْ تُّ فَھُوَمِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَا قُلْتُ اِذْ قُلْتُ وَلٰکِنْ اَنْطَقَنِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِـاِلْھَامِہٖ۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۵۷۲ تا ۵۷۴) (ترجمہ از مرتّب) مجھے ایسے امور پر اطلاع دی گئی جن کی طرف کبھی میرا وہم بھی نہ گیا تھا اور نہ اُن کا مجھے کچھ پتہ تھا۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعہ سے حکم دیاکہ اس شخص کی بڑی لڑکی کے رشتہ کے لئے تحریک کر اور اُسے کہہ کہ پہلے وہ تم سے مصاہرت کا تعلق قائم کرے اور اس کے بعد تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے۔نیز اُسے کہہ کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو زمین تم نے مانگی ہے وہ میں تمہیں دے دوں اور اس کے علاوہ کچھ اور زمین بھی۔نیز تم پر اور کئی رنگ میں احسانات کروں بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا رشتہ مجھ سے کردو اور یہ تمہارے اور میرے درمیان ایک عہدو پیمان ہے جسے اگر تم قبول کروگے تو مجھے بہترین طور پر اسے قبول کرنے والا پاؤ گے اور اگر تم نے قبول نہ کیا تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس لڑکی کا کسی اور شخص سے نکاح نہ اس لڑکی کے حق میں مبارک ہوگا نہ تمہارے حق میں۔اور اگر تم اپنے ارادے سے باز نہ آئے تو تم پر مصائب نازل ہوں گے اور آخر میں تمہاری موت ہوگی اور تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مرجاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور وہ موت ایسے حال میں آئے گی کہ تو غافل ہوگا اور ایسا ہی اُس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مرجائے گا۔یہ قضاء الٰہی ہے پس تم جو چاہو کرو میں نے تم کو نصیحت کردی ہے… پھر میں نے اُسے اللہ تعالیٰ کے اشارہ سے خط لکھا… (اور اُسے یہ بھی لکھا کہ) لو میں نے یہ خط خدا کے حکم سے لکھا ہے اپنی رائے سے نہیں لکھا۔پس اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھ کہ یہ نہایت ہی سچے امین کی طرف سے ہے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس معاملہ میں سچا ہوں اور جو وعدہ میں نے کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام سے مجھے بلوایا ہے۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’تین سال تک فوت ہونا روزِ نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے بلکہ بعض مکاشفات کے رُو سے مکتوب الیہ کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں، نزدیک پایا جاتا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔منہ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۸۶ حاشیہ) ۲ والد اس عورت کا نکاح سے چوتھے مہینے مطابق پیشگوئی فوت ہوگیا یعنی نکاح ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء کو ہوا اور وہ ۳۰؍ستمبر ۱۸۹۲ء کو بمقام ہوشیار پور گزر گیا۔منہ‘‘ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۸۶ حاشیہ)