تذکرہ — Page 137
استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آپہنچا تھا جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کردیا۔اُس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح؎۲کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور اُن کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروّت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصّہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰؍فروری۱۸۸۸ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دُختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا۔۱؎ ،۲؎ اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کررکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجامِ کار اِسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے۔بقیہ ترجمہ۔نشان کے ظہور کا وقت قریب آیا تو ان ایام میں ایسا اتفاق ہوا کہ ان لوگوں کے ایک نہایت ہی قریبی رشتہ دار نے جس کا نام احمد بیگ تھا ارادہ کیا کہ اپنی ہمشیرہ کی زمین پر قبضہ کرلے۔جس کا خاوند کئی سالوں سے مفقود الخبرہوگیا تھا۔۱ یعنی مرزا احمدبیگ ہوشیارپوری۔(شمس) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ وَاُنْبِئْتُ مِنْ اَخْبَارٍ مَّا ذَھَبَ وَھْلِیْ قَطُّ اِلَیْھَا وَمَا کُنْتُ اِلَیْھَا مِنَ الْمُسْتَدْ۔نِیْنَ۔فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلَـیَّ اَنِ اخْطُبْ صَبِیَّتَہُ الْکَبِیْرَۃَ لِنَفْسِکَ۔وَقُلْ لَّہٗ لِیُصَاھِرْکَ اَوَّلًا ثُمَّ لِیَقْتَبِسْ مِنْ قَبَسِکَ۔وَقُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ لِاَھَبَکَ مَاطَلَبْتَ مِنَ الْاَرْضِ وَاَرْضًا اُخْرٰی مَعَھَاوَاُحْسِنَ اِلَیْکَ بِاِحْسَانَاتٍ اُخْرٰی عَلٰی اَنْ تُنْکِحَنِیْ اِحْدٰی بَنَاتِکَ الَّتِیْ ھِیَ کَبِیْرَتُـھَا۔وَذَالِکَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ۔فَاِنْ قَبِلْتَ فَسَتَجِدُ نِیْ مِنَ الْمُتَقَبِّلِیْنَ۔وَاِنْ لَّمْ تَقْبَلْ فَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْاَخْبَرَنِیْ اَنَّ اِنْکَاحَھَارَجُلًا اٰخَرَ لَایُبَارَکُ لَھَا وَ لَا لَکَ فَاِنْ لَّمْ تَزْدَجِرْ فَیُصَبُّ عَلَیْکَ مَصَآئِبُ وَ اٰخِرُ الْمَصَآئِبِ مَوْتُکَ فَتَمُوْتُ بَعْدَ النِّکَاحِ اِلٰی ثَلَاثِ سِنِیْنَ۔بَلْ مَوْتُکَ قَرِیْبٌ وَّ یَـرِدُ عَلَیْکَ وَاَنْتَ مِنَ الْغَافِلِیْنَ وَکَذَالِکَ یَـمُوْتُ بَعْلُھَاالَّذِیْ یَصِیْرُ زَوْجَھَا اِلٰی حَوْلَیْنِ وَسِتَّۃِ اَشْھُرٍ قَضَآءً مِّنَ اللّٰہِ فَاصْنَعْ مَآ اَنْتَ صَانِعُہٗ وَاِنِّیْ لَکَ لَمِنَ النَّاصِـحِیْنَ…… ثُمَّ کَتَبْتُ اِلَیْہِ مَکْتُوْبًا بِـاِیْـمَآءِ مَنَّانِیْ وَ اِشَارَۃِ رَحْـمَانِی…… وَھَآ اَنَا کَتَبْتُ مَکْتُوْبِیْ ھٰذَا مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ لَا عَنْ اَمْرِیْ فَاحْفَظْ مَکْتُوْبِیْ ھٰذَا