تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 1089

تذکرہ — Page 132

ظاہر کی یہ سب اُس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔‘‘ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۵۳،۴۵۴) ۱۸۸۸ء ’’ اور اُس؎۳کی تعریف میں ایک الہام ہوا جَآءَکَ النُّوْرُ وَ ھُوَ اَفْضَلُ مِنْکَ یعنی کمالات ِ استعدادیہ میں وہ تجھ سے افضل ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲صفحہ ۸۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۵؍جنوری۱۸۸۸ء ’’چند روز کا ذکر ہے کہ پرانے کاغذات کو دیکھتے دیکھتے ایک پرچہ نکل آیا جو میں نے اپنے ہاتھ سے بطور یادداشت کے لکھا تھا۔اُس میں تحریر تھا کہ یہ پرچہ ۵؍جنوری ۱۸۸۸ء کو لکھا گیا ہے۔مضمون یہ تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی امر میں مخالفت کرکے کوئی تحریر چھپوائی ہے اور اُس کی سُرخی میری نسبت ’’کمینہ‘‘ رکھی ہے۔معلوم نہیں اس کے کیا معنے ہیں اور وہ تحریر پڑھ کر کہا ہے کہ آپ کو میں نے منع کیا تھا پھر آپ نے کیوں ایسا مضمون چھپوایا۔ھٰذَا مَارَاَیْتُ واللّٰہُ اَعْلَمُ بِتَأْوِیْــلِہٖ۔‘‘ (از مکتوب بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۳۱۳مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۴؍فروری۱۸۸۸ء ’’۱۳،۱۴؍فروری۱۸۸۸ء کی گذشتہ رات مجھے آپ کی نسبت دو۲ ہولناک خوابیں آئی تھیں جن سے ایک سخت ہم ّ و غم مصیبت معلوم ہوتی تھی۔میں نہایت وحشت و تردُّد میں تھا کہ یہ کیا بات ہے اور غنودگی میں ایک الہام بھی ہوا کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں رہا۔چنانچہ کل سندرؔداس کی وفات اور انتقال کا خط پہنچ گیا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔معلوم ہوتا ہے یہ وہی غم تھا جس کی طرف اشارہ تھا۔‘‘ (از مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۵۳۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) بقیہ حاشیہ۔کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹا دے گی اور جو جو اعتراضات غافلوں اور مُردہ دلوں کے مُنہ سے نکلے ہیں ان کو نابود اور ناپدید کردے گی… سو اَے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔‘‘ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۲،۴۶۳ ) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) بشیر اوّل جو ۷؍اگست۱۸۸۷ء کو پیدا ہوا اور۴؍نومبر ۱۸۸۸ء کو فوت ہوگیا۔۲،۳ یعنی بشیر اوّل۔(شمس)