تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 1089

تذکرہ — Page 133

قریباً ۱۸۸۸ء ’’ایک دفعہ ہمیں لدھیاؔنہ سے پٹیالہؔ جانے کا اتفاق ہوا۔روانہ ہونے سے پہلے الہام ہوا کہ ’’اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم ّ و غم پیش آئے گا‘‘ اس پیشگوئی کی خبر ہم نے اپنے ہمراہیوں کو دے دی چنانچہ جبکہ ہم پٹیالہ سے واپس آنے لگے تو عصر کا وقت تھا ایک جگہ ہم نے نماز پڑھنے کے لئے اپنا چوغہ اُتار کرسید محمد حسن خان صاحب وزیر ریاست کے ایک نوکر کو دیا تاکہ وضو کریں۔پھر جب نماز سے فارغ ہوکر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے باندھے ہوئے تھے وہ رومال گر گیا ہے۔تب ہمیں وہ الہام یاد آیا کہ اس نقصان کا ہونا ضروری تھا۔پھر جب ہم گاڑی پر سوار ہوئے تو راستہ میں ایک اسٹیشن دوراؔہہ پر ہمارے ایک رفیق کو کسی مسافر انگریز نے محض دھوکہ دہی سے اپنے فائدہ کے لئے کہہ دیاکہ لودیانہ آگیا ہے چنانچہ ہم اُس جگہ سب اُتر پڑے اور جب ریل چل دی تب ہم کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور اسٹیشن تھا اور ایک بیابان میں اُترنے سے سب جماعت کو تکلیف ہوئی اور اس طرح پر الہام مذکورہ کا دوسرا حصّہ بھی پورا ہوگیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸صفحہ ۶۰۹،۶۱۰) مئی ۱۸۸۸ء ’’ایک بار فتح مسیح نام ایک عیسائی نے کہا تھا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔میں نے جب اُسے کہا کہ تو پیشگوئی کر، تو گھبرا یا اورمجھے کہا کہ ایک مضمون بند لفافہ میں رکھا جاوے اور آپ اس کا مضمون بتادیں۔مجھے خدا تعالیٰ نے اطلاع دی کہ ’’تُواس کو قبول کرلے‘‘ جب میں نے اس کو بھی قبول کرلیا تو کئی سو آدمیوں کے مجمع میں آخر پادری وائٹ بریخٹ۱؎ نے کہا کہ یہ فتح مسیح جھوٹھا ہے۔‘‘ (الحکم جلد۶ نمبر ۵ مورخہ ۷؍ فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۴ کالم نمبر ۳) مئی ۱۸۸۸ء (الف) ’’اِنَّ؎۲ اللّٰہَ رَاٰی اَبْنَآءَ عَـمِّیْ وَغَیْرَ ھُمْ مِنْ شُعُوْبِ اَبِیْ وَ اُمِّیْ اَلْمَغْمُوْرِیْنَ فِی الْمُھْلِکَاتِ…… وَالْمُنْکِرِیْنَ لِوُجُوْدِ اللّٰہِ وَمِنَ الْمُفْسِدِیْنَ…… وَرَاٰی اَنَّـھُمْ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَالشُّرُوْرِ۔وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ…… وَلَا یَتُوْبُوْنَ مِنْ سَبِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) بَلْ کَانُوْا عَلَیْہِ مِنَ الْمُدَاوِمِیْنَ…… وَبَیْنَـمَاھُمْ کَذَالِکَ اِذِ اصْطَفَانِیْ رَبِّیْ لِتَجْدِیْدِ دِیْنِہٖ …… وَ رَزَقَنِیْ مِنَ الْاِلْھَامَاتِ وَالْمُکَالَمَاتِ وَ الْمُخَاطَبَاتِ وَالْمُکَاشَفَاتِ رِزْقًا حَسَنًا…… فَطَغَوْا وَبَغَوْا وَاسْتَدْعَوُا الْاٰیَـاتِ اِسْتِـھْزَآءً وَّ قَالُوْا لَانَعْلَمُ اِلٰھًا یُکَلِّمُ اَحَدًا…… فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ اِنْ کَانَ مِنَ