تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 1089

تذکرہ — Page 131

۱۱؍جولائی ۱۸۸۷ء ’’ میں نے آج خواب میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے مکان پر موجود ہیں۔دل میں خیال آیا کہ ان کو کیا کھلائیں، آم تو خراب ہوگئے ہیں۔تب اور آم غیب سے موجود ہوگئے۔واللہ اعلم اس کی کیا تعبیر ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۵۰۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۷؍اگست ۱۸۸۷ء ’’اِنَّـآ اَرْسَلْنَاہُ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّـرًا وَّ نَذِ یْـرًا کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَـرْقٌ کُلُّ شَیْءٍ تَـحْتَ قَدَمَیْہِ۔یعنی ہم نے اس بچہ کو شاہد اور مبشر اور نذیر ہونے کی حالت میں بھیجا ہے اور یہ اُس بڑے مینہہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں اور رعد اور برق بھی ہو۔یہ سب چیزیں اُس کے دونوں قدموں کے نیچے ہیں۔؎۱ ‘‘ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۲) ۱۸۸۸ء (الف) ’’اُس؎۱ لڑکے کی پیدائش کے بعد اس کی طہارت باطنی اور صفائی استعداد کی تعریفیں الہام میں بیان کی گئیں اور پاکؔ اور نورؔاللہ اور یداللہؔ اور مقدسؔ اور بشیر ؔ اور خدا باماست اس کا نام رکھا گیا… خدا تعالیٰ نے پسر متوفّٰی کے اپنے الہام میں کئی نام رکھے۔اُن میں سے ایک بشیر ؔ اورایک عنمواؔئیل اور ایک خدا باماست و رحمتِ حق اور ایک یَدُ اللہِ بِـجَلَالٍ وَجَـمَالٍ ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۷۴ و ۸۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (ب) ’’خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا؎۲ جو فوت ہوگیا ہے ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دُنیوی جذبات بکلّی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اِس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدّیقی رُوح اپنے اندر رکھتا ہے اور اُس کا نام بارانِ رحمت اور مبشرؔ اور بشیر ؔ اور یَداؔللہ بجلالٍ وجمالٍ وغیرہ اسماء بھی ہیں۔سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اُس کی صفات ظاہر کی یہ سب اُس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔‘‘ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’الہامی عبارت میں جیسا کہ ظلمت کے بعد رعد اور روشنی کا ذکر ہے یعنی جیسا کہ اس کی عبارت کی ترتیب بیانی سے ظاہر ہوتا ہےکہ پسر متوفّٰیکے قدم اُٹھانے کے بعد پہلے ظلمت آئے گی اور پھر رعد اور برق۔اسی ترتیب کے رو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا۔یعنی پہلے بشیر کی موت کی و جہ سے ابتلاء کی ظلمت وارد ہوئی اور پھر اُس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے اور جس طرح ظلمت ظہور میں آگئی اسی طرح یقیناً جاننا چاہیے کہ کسی دن وہ رعد اور روشنی بھی ظہور میں آجائے گی جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت