تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 1089

تذکرہ — Page 130

اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی کہ امام بی بی ؎۲جو ہمارے جدّی شرکاء میں سے ایک عورت تھی مرجائے گی اور اس کی زمین نصف ہمیں اور نصف دیگر شرکاء کو مل جائے گی۔یہ الہام ان دوستوں کو جو اُس وقت ہمارے ساتھ تھے سنادیا گیا تھا چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ عورت مذکور مر گئی اور اس کی نصف زمین ہمیںاور نصف بعض دیگر شرکاء کو ملی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۵۹۱، ۵۹۲) (قریباً) ۱۸۸۷ء ’’ایک دفعہ ہمیں موضع کُنجراں ضلع گورداسپور کو جانے کا اتفاق ہوا اور شیخ حامد علی ساکن تھِہ غلام نبی ہمارے ساتھ تھا۔جب صبح کو ہم نے جانے کا قصد کیا تو الہام ہوا کہ اس سفر میں تمہارا اور تمہارے رفیق کا کچھ نقصان ہوگا چنانچہ راستہ میں شیخ حامد علی کی ایک چادر اور ہمارا ایک رُومال گُم ہوگیا۔اس وقت حامد علی کے پاس وہی چادر تھی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۶۰۷،۶۰۸) ۱۸۸۷ء ’’بیج ناتھ برہمن ولد بھگت رام کو کشفی طور پر اطلاع دی گئی تھی کہ ایک برس کے عرصہ تک تجھ پر مصیبت نازل ہونے والی ہے اور کوئی خوشی کی تقریب بھی ہوگی۔چنانچہ اس پیشگوئی پر اس کے دستخط کرائے گئے جو اَب تک موجود ہیں۔پھر بعد ازاں ایک برس کے عرصہ میں اس کا باپ جوانی کی عمر میں ہی فوت ہوگیا اور اسی دن ان کی شادی کی تقریب بھی پیش تھی یعنی کسی کا بیاہ تھا۔‘‘ (شحنہء حق۔روحانی خزائن جلد۲صفحہ ۳۸۴) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) پیغام صلح جلد ۲۳نمبر۷۷ صفحہ۴ سے مرزا خدابخش صاحب کے اپنے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ اور مولوی نجف علی قادیان آئے تو اُن دنوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی امریکہ کے ایک باشندہ الیگزنڈر رسل وِب۳؎ کے ساتھ خط و کتابت ہورہی تھی۔حضورؑ نے سیر میں یہ خواب سنائی اور مولوی نجف علی نے اقرار کیا کہ واقعی مولوی محمد حسین بٹالوی سے اُن کی باتیں سن کر آپ کا سخت مخالف ہوگیا تھا اور میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ آپ کی کوئی بات قبول نہ کروں گا اور شحنۂ حق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ۱۸۸۷ء کا ہے کیونکہ اس میں الیگزنڈر رسل وِب کی خط و کتابت درج ہے۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) امام بی بی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی ہمشیرہ تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک چچا زاد بھائی کی جو مفقود الخبرہوچکا تھا، بیوہ تھی۔۳ Alexander Russel Webb