تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 1089

تذکرہ — Page 127

یعنی مخالفوں نے تو یہ شور مچایا ہے کہ پیشگوئی غلط نکلی مگر جلد فہیم لوگ سمجھ؎۱جائیں گے اور ناواقف شرمندہ ہوں گے۔‘‘ (الحکم جلد۶ نمبر۱۶ مورخہ۳۰؍اپریل۱۹۰۲ء صفحہ۷ ) ۲۶؍اپریل ۱۸۸۶ء ’’شیخ مہر علی کی نسبت ضرور قادیان میں ۲۶؍اپریل۱۸۸۶ء میں ایک خطرناک خواب آئی تھی جس کی یہی تعبیر تھی کہ ان پر ایک بڑی بھاری مصیبت نازل ہوگی چنانچہ ان ہی دنوں میں ان کو اطلاع بھی دی گئی تھی۔خواب یہ تھی کہ اُن کی فرشِ نشست کو آگ لگ گئی اور ایک بڑا تہلکہ برپا ہوا اور ایک پُرہول شعلہ آگ کا اُٹھا اور کوئی نہیں تھا جو اُس کو بُجھاتا۔آخر میں مَیں نے بار بار پانی ڈال کر اُس کو بجھادیا۔؎۲ پھر آگ نظر نہیں آئی مگر دھواں رہ گیا۔مجھے معلوم نہیں کہ کس قدر اُس آگ نے جلادیا مگر ایسا ہی دل میں گذرا کہ کچھ تھوڑا نقصان ہوا۔یہ خواب تھی۔یہ خط؎۳شیخ صاحب کے حوالات میں ہونے کے بعد اُن کے گھر سے اُن کے بیٹے ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چنانچہ اس بشارت کے مطابق عصمتؔ کی پیدائش کے بعد ۷؍اگست ۱۸۸۷ء کو ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا جس کی پیدائش سے ۲۰؍فروری۱۸۸۶ء والے الہام کا یہ فقرہ پورا ہوا کہ ’’خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔‘‘ نیز۸؍اپریل۱۸۸۶ء کا یہ الہام پورا ہوا کہ ’’ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے۔‘‘ ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بہ یقین کامل یہ تعبیر ڈالی گئی کہ شیخ صاحب پر اور اُن کی عزت پر سخت مصیبت آئے گی اور میرا پانی ڈالنا یہ ہوگا کہ آخر میری ہی دُعا سے نہ کسی اور و جہ سے وہ بلا دُور کی جائے گی… آخر قریباً چھ ماہ گذرنے پر ایسا ہی ہوا اور میں انبالہ چھاؤنی میں تھا کہ ایک شخص محمد بخش نام شیخ صاحب کے فرزند جان محمد کی طرف سے میرے پاس پہنچا اور بیان کیا کہ فلاں مقدّمہ میں شیخ صاحب حوالات میں ہوگئے۔میں نے اُس شخص سے اپنے خط کا حال دریافت کیا جس میں چھ ماہ پہلے اس بلا کی اطلاع دی گئی تھی تو اُس وقت محمد بخش نے اِس خط کے پہنچنے سے لاعلمی ظاہر کی لیکن آخر خود شیخ صاحب نے رہائی کے بعد کئی دفعہ اقرار کیا کہ وہ خط ایک صندوق میں سے مل گیا۔پھر شیخ صاحب تو حوالات میں ہوچکے تھے لیکن اُن کے بیٹے جان محمد کی طرف سے شاید محمد بخش کے دستخط سے جو ایک شخص ان کے تعلق داروں میں سے ہے کئی خط اِس عاجز کے نام دُعا کے لئے آئے اور اللہ جلّ شانہٗ جانتا ہے کہ کئی راتیں نہایت مجاہدہ سے دُعائیں کی گئیں اور اوائل میں صورت قضاء و قدر کی نہایت پیچیدہ اور مبرم معلوم ہوتی تھی لیکن آخر خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی اور اُن کے بارے میں رہا ہونے کی بشارت دے دی اور اُس بشارت سے اُن کے بیٹے کو مختصر لفظوں میں اطلاع دی گئی… دعا بہت کی گئی اور آخر فقرہ میں بریّت اور فضل الٰہی کی بشارت دی گئی تھی وہ الفاظ اگرچہ بہت کم تھے مگر قَلَّ وَدَلَّ تھے۔‘‘ (ضمیمہ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۶۵۳،۶۵۴) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی جو خط اس خواب کی اطلاع کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کو لکھا تھا۔