تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 1089

تذکرہ — Page 126

۸؍ اپریل ۱۸۸۶ء (الف) ’’ بعد اشاعت اشتہار مندرجہ؎۱بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدّتِ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔اِس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہےیا بالضرور اُس کے قریب حمل میں لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیاکہ جو اَب پیدا ہوگایہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نوبرس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔‘‘ (اشتہار صداقت آثار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱صفحہ ۱۳۲،۱۳۳۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (ب) ’’ عربی الہام کے یہ دو فقرہ ہیں۔۱ نَـازِلٌ مِّنَ السَّمَآءِ۔۲ وَ نَـزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔جو نزول یا قریب النزول پر دلالت کرتے ہیں۔‘‘ (اشتہار صداقت آثار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱صفحہ ۱۳۳ حاشیہ۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (ج) ’’ پھر بعد میں اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔‘‘ (اشتہار صداقت آثار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱صفحہ ۱۳۳۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۸۶ء ’’ جن؎۲ دنوں لڑکی پیدا ہوئی تھی اور لوگوں نے غلط فہمی پیدا کرنے کے لئے شور مچایا کہ پیشگوئی غلط نکلی ان دنوں میں یہ الہام ہوا تھا۔دشمن کا بھی خوب وار نکلا تِس پر بھی وہ وار پار نکلا یعنی ۱ اشتہار۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ء۔(مرزا بشیر احمد) ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر میں ۱۵؍اپریل۱۸۸۶ء میں لڑکی پیدا ہوئی جس کانام عصمتؔ رکھا گیا اس لڑکی کی پیدائش پر مخالفین نے یہ شور مچایا کہ لڑکے کے متعلق جو پیشگوئی تھی وہ غلط نکلی کیونکہ موجودہ حمل سے لڑکی پیداہوئی ہے نہ کہ لڑکا۔مگر یہ اعتراض بالکل غلط تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کہیں نہیں لکھا تھا کہ موجودہ حمل سے ہی ضرور لڑکا پیدا ہوگا بلکہ الہام ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کی ذیل میں یہ صراحت کی گئی تھی کہ عنقریب ایک لڑکا ہوگا خواہ موجودہ حمل سے ہو یا اس کے قریب آئندہ حمل سے۔چنانچہ عصمت کی پیدائش کے بعد دوسرے حمل سے بشیر اوّل پیدا ہوگیا۔