تذکرہ — Page 128
تھوڑا نقصان ہوا۔یہ خواب تھی۔یہ خط؎۳شیخ صاحب کے حوالات میں ہونے کے بعد اُن کے گھر سے اُن کے بیٹے چ لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اسی؎۱کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنی یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونے؎۲والا ہے۔‘‘ (اشتہار ۱۰؍جولائی۱۸۸۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۷۹ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۳؍اگست۱۸۸۶ء ’’ہم پر آج بھی جو تیسری اگست ۸۶ء ہے منجانب اللہ اُس؎۳ کی نسبت معلوم ہوا ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرےتو اُس کی بے راہیوں کا وبال جلد تر اُسے درپیش ہے اور اگر یہ معمولی رنجوں میں سے کوئی رنج ہو تو اُس کو پیشگوئی کا مصداق مت سمجھو لیکن اگر ایسا رنج پیش آیا جو کسی کے خیال گمان میں نہیں تھا تو پھر سمجھنا چاہیے کہ یہ مصداقِ پیشگوئی ہے لیکن اگر وہ باز آنے والا ہے تو پھر بھی انجام بخیر ہوگا یا تنبیہ کے بعد راحت پیدا ہوجائے گی۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۳۸، ۲۳۹) ۱۳؍ فروری ۱۸۸۷ء ’’آج مجھے فجر کے وقت یوں القا ہوا۔یعنی بطور الہام عبدالباسط ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ کے بعض شروع کے حصّے نواب صدیق حسن خان کو بھیج کر انہیں تحریک کی تھی کہ وہ اس کتاب کی اشاعت میں حصّہ لیں جس کے جواب میں نواب صاحب نے لکھا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا اُن میں کچھ مدد دینا خلافِ منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے اِس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ اُمید نہ رکھیں۔نواب صاحب کے اس جواب کا ذکر کرکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ حصّہ چہارم کے ضمیمہ اشتہار ’’مسلمانوں کی نازک حالت اور انگریزی گورنمنٹ‘‘ میں تحریر فرمایا۔’’ہم بھی نواب صاحب کو اُمید گاہ نہیں بناتے بلکہ اُمید گاہ خداوند ِ کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے (خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے)۔‘‘ جس کے بعد نواب صاحب پر گورنمنٹ انگریزی کسی معاملہ میں ناراض ہوئی اور ان سے نوابی کا خطاب واپس لے لیا۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’نواب صاحب صدیق حسن خان پر جو ابتلاء پیش آیا وہ بھی میری ایک پیشگوئی کا نتیجہ ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے انہوں نے میری کتاب براہین احمدیہ کو چاک کرکے واپس بھیج دیا تھا میں نے دعا کی تھی کہ ان کی عزّت چاک کر دی جائے۔سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۴۷۰ حاشیہ) نواب صاحب کو جب اپنے اس قصور کا احساس ہوا تو حضرت اقدس کی خدمت میں خط کے ذریعہ دُعا کی درخواست کی۔