تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 1089

تذکرہ — Page 120

سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام(لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذرّیّت و نسل ہوگا۔خوبصورت پاک؎۱ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اُس کانام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس رُوح دی گئی ہے اور وہ رِجس سے پاک ہے۔وہ نوراللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل؎۲ ہے جو اُس کےآنے کے ساتھ آئے گا۔؎۳ وہ صاحب ِ شکوہ اور عظمت اور دَولت ہوگا۔وہ دُنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور رُوح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ عبارت کہ خوبصورت، پاک لڑکا تمہارا مہمان… جو آسمان سے آتا ہے یہ تمام عبارت… چند روزہ زندگی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روز رہ کر چلا جاوے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہوجاوے اور بعد کا فقرہ مصلح موعود کی طرف اشارہ ہے اور اخیر تک اسی کی تعریف ہے… بیس۲۰ فروری۱۸۸۶ء کی پیش گوئی… ۲دو پیشگوئیوں پر مشتمل تھی جو غلطی سے ایک سمجھی گئی اور پھر بعد میں … الہام نے اس غلطی کو رفع کردیا۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب ؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲صفحہ ۷۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ… مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اِس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اُس کے ساتھ فضل ہے کہ جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اُس کا محمودؔ اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اُس کا نام فضلِ عمر ظاہر کیاگیا ہے اور ضرور تھا کہ اُس کا آنا معرضِ التوا میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہوگیا ہے پیدا ہوکر پھر واپس اُٹھایا جاتا کیونکہ یہ سب امور حکمت ِ الٰہیہ نے اُس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے اور بشیر اوّل جو فوت ہوگیا ہے بشیر ثانی کے لئے بطور ارہاص تھا اِس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔‘‘ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۷ حاشیہ) ۳ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) رسالہ التبلیغ ملحقہ کتاب آئینہ کمالات اسلام میں مصلح موعود کے متعلق مزید اوصاف کا ذکر ہے۔’’ وَ الْفَضْلُ یَنْزِلُ بِنُزُوْلِہٖ۔وَ ھُوَ نُوْرٌ وَ مُبَارَکٌ وَ طَیِّبٌ وَ مِنَ الْمُطَھَّرِیْنَ۔یُفْشِی