تذکرہ — Page 119
رَأَیْتُ ھٰذِہِ الْمَرْأَ۔ۃَ وَ اَثَـرُ الْبُکَآءِ عَلٰی وَجْھِھَا فَقُلْتُ اَیَّتُـھَا الْمَرْءَۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآءَ عَلٰی عَقَبِکِ وَالْمُصِیْبَۃُ نَازِلَۃٌ عَلَیْکِ یَـمُوْتُ وَیَبْقٰی مِنْہُ کِلَابٌ مُتَعَدِّدَۃٌ۔‘‘۱؎ (اشتہار پانز ۱۵دہم جولائی۱۸۸۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ۱۸۳ حاشیہ۔مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء ’’خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہریک چیز پر قادر ہے (جَلَّ شَانُہٗ وَ عَزَّ اِسْـمُہٗ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تونے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تضرّعات کو سنا اور تیری دُعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایۂ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کردیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر! تجھ پر سلام خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور ا س کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰؐ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہوجائے۔۱ (ترجمہ از مرتّب) میں نے اس عورت (یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی ساس کو جو محمدی بیگم کی نانی اور مرزا امام الدین وغیرہ کی والدہ تھی) کو ایسے حال میں دیکھا کہ اس کے منہ پر گریہ و بُکا کے آثار تھے تب میں نے اُسے کہا کہ اے عورت! توبہ کر، توبہ کر کیونکہ بلا تیری نسل کے سر پر کھڑی ہے اور یہ مصیبت تجھ پر نازل ہونے والی ہے۔وہ شخص (یعنی مرزا احمد بیگ) مرے گا اور اس کی و جہ سے کئی سگ سیرت لوگ (پیدا ہوکر) پیچھے رہ جائیں گے۔