تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 27
انسان کے نفس امارہ میں کسی قسم کی پلیدیاں ہوتی ہیں۔مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی ہے۔اگر نکیر نہ ہوتا تو کوئی شخص کافر نہ رہتا۔(ص) تم دل کے مسکین بن جاؤ عام طور پر بنی نوع کی ہمدردی کرو۔(صدا) خدا تعالی کے فرائض کو دلی خوف سے سجالا ؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے۔(صاف) نمازوں میں بہت دعا کرو کہ تا خدا تمہیں اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے کیونکہ انسان کمز ور ہے ہر ایک بدی جو دور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دور ہوتی ہے۔(ص) جب تک انسان خدا سے قوت نہ پائے کسی بدی کے دور کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کھلاؤ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری رد میں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائیں قرآن کریم کو اپنا پیشوا پکڑو اور سرا ایک بات میں اس سے یہی حال کرا دو سے روشنی قرآن شریف کو بڑی حفاظت سے خدا تعالیٰ نے تمہارے تک پہنچایا ہے سو تم اس پاک کلام کی قدر کرو۔اس پر کسی چیز کو مقدم نہ مجھو کہ نام داست وی اور راستبازی اسی پر موقوف ہے۔(ص ۶) کسی شخص کی باتیں لوگوں کے دلوں میں اسی مدتک موثر ہوتی ہیں میں حد جک اس شخص کی معرفت اور تقوی پر لوگوں کو یقین ہوتا ہے۔(ص)