تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 23
تاخیر ہوئی ہے ؟ جواب ، آپ نے بریگیڈیئر محمد حسین کو توال کو خط لکھا جس میں تاخیر کی سب وجہ بیان کر کے کھا کہ کسی مناسب موقع پر امیر کابل کو سب معاملہ نیتا دیں۔وہ خط محمد حسین صاحب کے ایک نائب نے جو مخالف اور شریر تھا نکال لیا اور امیر کابل کودے دیا کچھ عرصہ جواب کا انتظار کر کے حضرت صاحبزادہ صاحب نے دوسرا خط تحریر فرمایا وہ خط افسر ڈاکخانہ نے کھول کر امیر کو دے دیا۔امیر نے یہ چال چلی اور لکھوایا کہ بے خطر چلے آئیں۔دعوئی کہ سچا ہو گا تو وہ بھی مرید ہو جائے گا۔(ح) سوال حضرت صاحبزادہ صاحب کو کسی قسم کی قید میں رکھا گیا۔اور کتنا عرصہ ؟ جواب در کابل پر عملاً مولویوں اور علماء کا بہت اثر و رسوخ تھا۔ان کے فتوے امیر کو بھڑکا رہے تھے۔صاحبزادہ صاحب کی حیثیت حکومت کے ایک بازو کی تھی۔ہزاروں ان کے مرید و معتقد اور علمی فضیلت کے قائل تھے۔امیر کا خیال تھا کہ شاید قید سخت کی صعوبتوں سے تو بہ کر لیں۔اس لئے اُس نے اپنے محل میں قید کرنے کا حکم دیا اور ڈیڑھ من وزنی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر ایسی اذیت دی جس کے سامنے موت بھی ابھی تھی مگر ایمان میں پکے صاحبزادہ صاحب نے بڑے صبر سے یہ اذیت برداشت کر لی اور مسیح موعود آپ پر سلامتی ہو) کو شناخت کرنے کے بعد جان کی قربانی دے دی (سنه) سوال راس مخالفت اور قید سے جماعت کو کیا فائدہ پہنچا ؟