تذکرۃ المہدی — Page 89
تذكرة المهدى 89 اور آپ کی بعثت انبیاء والی بعثت ہے ولیوں مشائخوں کی سی بیعت نہیں ہے۔آپ سے روگردانی خدا سے روگردانی اور آپ سے بیعت خدا سے بیعت کرنی ہے یہ ایمان کا معاملہ ہے شیخ یوسف علی مرحوم میرا بیان سن کر خاموش ہو گئے اور چار پانچ ماہ کے بعد معہ تحائف دار الامان حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت سراپا برکت میں حاضر ہوئے اور پندرہ سولہ روز رہ کر اور شرف زیارت حاصل کر کے وطن کو چلے گئے اور پھر دوبارہ آکر حضرت اقدس علیہ السلام سے بڑی پختگی کے ساتھ بیعت کی چونکہ خواندہ اور زیرک اور ذہین وخیم شخص تھے اس سرگرمی سے بیعت کی کہ بلا خوف لومتہ لائم تبلیغ سلسلہ حقہ میں رات دن مشغول رہے نہ کسی اعلیٰ افسر سے خوف کھایا نہ کسی مولوی پیر و فقیر سے دبے نہ تقریر میں ہارے اور نہ تحریر میں پسپا ہوئے۔مخالفتیں بھی ہو ئیں عداوتیں بھی ہو ئیں لیکن یہ ہر وقت اور مرتے دم تک صادق الیقین رہے اور ایسے مستقل اور مستقیم رہے کہ جو ایک مومن صالح صادق کے مناسب حال ہونا چاہیئے ان کے ایک دختر اور تین فرزند ہیں دختر کے رشتہ کے پیغام ان کی برادری میں سے آئے لیکن مرحوم نے غیر احمدیوں میں رشتہ کرنا پسند نہ کیا ایک شخص ان کی برادری میں سے احمدی ہو گیا تب انہوں نے اپنی دوختر دی مگر افسوس وہ بد قسمت بعد وفات مرحوم مرتد ہو گیا لیکن وہ نیک بخت لڑکی اب تک احمدی ہے اور اپنے شوہر پر افسوس کرتی رہتی ہے سنگرور - جیند - سفیدون- ہانسی - تو شام دادری چرخی رہتک یا اور جہاں جہاں تک ان کے رشته برادری یا ملازمت کا تعلق تھا تبلیغ سلسلہ احمدیہ کرتے رہے اور بہت لوگ ان کی وجہ سے داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے یہ بار بار دار الامان آتے رہتے تھے۔سیح موعود کی دعا کا اثر یہ مرحوم اپنے روزگار کی ترقی کی جو مخالفوں کی طرف سے روک پڑگئی تھی دعا حضرت اقدس علیہ السلام سے کراتے اور عریضہ بھی لکھتے رہے اور ایک عریضہ حضرت