تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 88 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 88

تذكرة المهدى 88 مرزا صاحب مرحوم نے اس وقت مجلس ہو یا غیر مجلس فورا جواب معقول دیا جس سے اس واعظ کا ناطقہ بند ہو جاتا چونکہ اس گاؤں میں مغل رہتے ہیں اور مرحوم کے سب رشتہ دار یک جدی ہیں سب پر اس مرحوم کا اثر تھا۔اور اگر یہ مرحوم کبھی کسی وقت اس گاؤں میں نہ ہوتا اور کوئی مخالف مولوی آجاتا اور مخالفت میں وعظ یا کلام کرتا تو تمام مغل کہدیتے کہ جناب ہم کو قادیان اور مرزا صاحب قادیانی سے واقفیت پوری نہیں لیکن ہم میں ایک مولوی مرزا محمد امین بیگ قادیانی ہیں اس سے دو دو بات کر لو۔پھر ہم صدق و کذب کا فیصلہ کریں گے ہم نادان نہیں ہیں بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم میں بہت سے لوگ وکیل ریاست اور خواندہ بھی ہیں بس مولوی نے مرزا صاحب مرحوم کا نام سنا اور بھاگا یا مخالفت کا کلام اور وفظ چھوڑ دیا۔مولویوں نے مرحوم کی زندگی میں اس گاؤں کا آنا چھوڑ دیا تھا بات دور نکل گئی اس مرحوم نے یہاں تک ترقی کی اور احمدیت کے رنگ میں اندر باہر سے رنگا گیا کہ ایک روز کسی شخص نے کہا کہ مرزا امین بیگ تمہارا مرشد اول سراج الحق تو قادیان سے پھر گیا اور حضرت اقدس سے روگردان ہو گیا۔اب تم بتاؤ کیا کرو گے تو مرزا صاحب مرحوم مغفور نے کیسا لطیف اور حق وصواب سے پر جواب دیا کہ ایک اعلیٰ سے اعلیٰ مومن اور عبد رحمن کا یہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سراج الحق پھر گیا میں تو نہیں پھرا یہ جملہ لطیف اور ایسا پیارا اس کے منہ سے نکلا کہ اس جملہ کی قدر میرے دل اور اہل دل سے پوچھئے۔سو یوسف علی صاحب اس قسم کی بیعت اور ایسی عقیدت و ارادت ہونی چاہئے۔شیخ یوسف علی مرحوم کا بیعت کرنا حضرت اقدس علیہ السلام سے بیعت منہاج نبوت کی بیعت