تذکرۃ المہدی — Page 90
تذكرة المهدى 90 مولانا عبد الکریم سیالکوئی مرحوم مغفور کی خدمت میں اور ایک میرے پاس دعا کے لئے لکھتے رہے پھر تیسرے روز لکھتے رہے اور حضرت اقدس علیہ السلام جواب میں فرما دیتے تھے کہ ہاں دعا کی ہے اور کریں گے مطمئن رہو اور یاد دلاتے رہو اور فرمایا کہ جو یار ولاتا رہتا ہے اور تھکتا اور مایوس نہیں ہوتا وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔اور جو تھک کر رہ جاتا ہے وہ اپنے مطلب میں رہ جاتا ہے یی ارشاد عالی میں نے یوسف علی مرحوم کو لکھ دیا اس مرحوم نے ایسی یاد دہانی کی که هر روز ایک خط حضرت اقدس علیہ السلام اور ایک مولانا عبد ا کریم رضی اللہ عنہ اور ایک میرے نام روانہ کرنے لگے ایک مہینہ برابر اسی طرح لگاتار ہر روز خط آتے رہے مولانا عبد الکریم رضی اللہ عنہ ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ پیر صاحب تمہارے یوسف نے تو حد کر دی ہر روز ایک خط بلا ناغہ آتا ہے میں تو پڑھتے پڑھتے تھک گیا جب چار ماہ برابر اسی طرح گذرے تو ایک روز مولانا عبد الکریم مرحوم نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ جناب یوسف علی نے تو خط کیا لکھے کھپ پاری ڈاک میں خطوں کا تار باندھ دیا خدا کے لئے اب تو اس کے لئے خاص دعا کر دیجئے کہ وہ اپنے مطلب و مقصد کو پہنچ جاوے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہاں روزانہ خط ہمارے پاس بھی آتے ہیں اور پرسوں سے ہمیں بھی خیال ہے آج ہم دعائے خاص کریں گے دوسرے روز حضرت علیہ السلام نے فرمایا لو مولوی صاحب اور صاحبزادہ صاحب ہم نے دعا کر دی ان کو لکھ دو کہ دعا کی گئی اور قبول ہو گئی اب انشاء اللہ جلد تم اپنے مقصد کو پہنچ جاؤ گے یاد دہانی ہو چکی اب سوائے خیریت کے اسقدر خطوط کی ضرورت نہیں ہے حضرت مولوی عبد الکریم مرحوم اور میں نے یہی لکھ دیا ابھی تین روز نہ گذرے ہوں گے کہ امید سے زیادہ ترقی روز گار ہو گئی اور کوئی صورت ترقی کی نہیں تھی چاروں طرف سے روک تھی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت علیہ السلام کی دعاء سے سب رد کیں دور کر دیں الحمد للہ