تذکرۃ المہدی — Page 87
تذكرة المهدي 87 اس کی زندگی حضرت اقدس کی صداقت کے ساتھ تھی ایک روز میں نے ایک مجلس میں یہ نعت پڑھی کہ۔دن بھلے ہوتے تو کاہے کو جدائی ہوتی وہ نہ آئے تھے اگر موت ہی آئی ہوتی بخت ناساز ہے ہوتا جو مقدر اچھا میری قسمت میں مدینہ کی گدائی ہوتی کیا کروں مانع ہجرت ہے شمابار عصیاں ورنه در پر ترے دھونی ہی رہائی ہوتی گر جمالی کے مقدر میں نہ ہوتا تھاوسال خواب ہی میں کبھی صورت تو دکھائی ہوتی جب میں یہ نعت خوش الحانی سے پڑھنے لگا تو مرزا صاحب مرحوم کو خوش نہ پایا حالانکہ حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت سے پہلے اس نعت کو بڑے شوق سے سنا کرتے تھے جس وقت یہ نعت ختم ہوئی تو اچانک مرزا صاحب مرحوم کھڑے ہو گئے اور بآواز بلند اس مجلس میں مجھ سے کہا کہ حضرت پیرو مرشد اس نعت کو پھر کبھی آپ نہ پڑھیں اب ہجر کیسا اور جدائی کے کیا معنی جب بروز و مثیل محمد مصطفی مدنی الله احمد مجتبی قادیانی تشریف لے آئے (علیہ السلام) تو پھر ہجر میں موت مانگنا فضول ہے یہ تو وصل کے اور خوشی کے دن ہیں۔اب آپ ہمیں وصل کی باتیں وصل کی غزلیں وصل کی نعتیں سنایا کریں۔اللہ اکبر اس مرحوم کا کیسا زبردست ایمان تھا کہ ایک ماہ کی صحبت حضرت اقدس علیہ السلام نے کیا سے کیا اس کو بنا دیا کسی نے خوب کہا ہے مکاں سے مجھے لامکاں لے گئی یہ الفت کہاں سے کہاں لے گئی یہ حضرت اقدس علیہ السلام کی معجزانہ صحبت کا اثر تھا اور وہ شخص مرتے دم تک اس ملک اور اس گاؤں میں کہ جہاں کوئی احمدی نہیں جس طرف نظر ڈالو سوائے مخالفوں کے اپنے ہوں یا پرائے دکھائی نہیں دیتے ثابت قدم رہا اور وہ ثبوت اپنی ثابت قدمی کا دکھلایا کہ کسی ابتلا پیش آمدہ تزلزل نہیں ہوا اور روز بروز آگے ہی آگے قدم بڑھتا رہا۔جب کوئی مولوی واعظ مخالفت میں کچھ بولا تو