تذکرۃ المہدی — Page 86
تذكرة المهدي 86 یہ ہے کہ مذہبی جنگ تو اب بھی ہے اور رات دن جنگ ہو رہا ہے صورت جنگ بدلی ہوئی ہے سیف و سنان کی جگہ نیزہ (قلم) ولسان ہے۔یوسف : اب بتلائیں میں کیا کروں سراج : تم بھی میری طرح ان سے بیعت ہو جاؤ پہلے پیری و مریدی کا ہمارا تمہارا تعلق تھا اب پیر بھائی کا رشتہ ہو جائے گا لیکن یہ یاد رہے کہ میری تقلید سے حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت نہ کرنا بلکہ تحقیقی بیعت کرنا کہ جو پختہ ہوتی ہے اور کسی قسم کی اس میں خامی نہیں رہتی تقلید کام ظنی ہوتا ہے اور تحقیقی یقینی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا جیسی اور جس قین کے ساتھ تمہارے پیر بھائی مرزا محمد امین بیگ صاحب مرحوم مغفور ساکن موضع بھالوجی علاقہ کوٹ پوتلی ریاست کمیتری متعلقہ ریاست سوای جے پور نے بیعت کی تھی۔اس مرحوم نے جب میری زبانی سنا کہ امام مہدی اور مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہیں اور وہ مسیح ابن مریم صاحب انجیل وفات پاگئے چونکہ مجھ سے عقیدت راسخہ رکھتے تھے وہ حضرت اقدس علیہ السلام کے مصدق ہو گئے اور خود قادیان حاضر ہوئے اور حضرت اقدس علیہ السلام سے بیعت کی اور ایک مہینہ کامل دار الامان میں رہے حضرت اقدس علیہ السلام بھی ان سے بہت محبت رکھتے تھے اور وہ ایک ظریف اور بزلہ صبح آدمی تھے بات بات ان کی ظرافت تھی وہ دن فرصت کے تھے اس زمانہ میں مرزا خدا بخش کتاب عسل مصفی بھی وہاں تھے گھنٹوں تک حضرت اقدس علیہ السلام مرزا امین بیگ مرحوم سے باتیں کرتے اور ان کی ظرافت آمیز باتوں پر ہنستے ایک ماہ کی صحبت حضرت اقدس علیہ السلام کی اس میں یہ تاثیر ہوئی اور ایسا انشراح صدر ہوا کہ وہ بے پڑھ تھا لیکن کوئی مولوی گفتگو میں اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا اور ہر وقت حضرت اقدس علیہ السلام کی صداقت کا ہی ذکر کر تا رہتا تھا گویا