تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 79 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 79

تذكرة المهدى 79 کیا میں جو بولنا چاہتا تھا یہ بات بولنی چاہتا تھا کہ جو حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب دام فیضہ بول اٹھے پھر میں خاموش ہی رہا کہ بازی تو حضرت مولانا نور الدین لے گئے اب تیرا بولنا ٹھیک نہیں اور خلاف ادب بھی ہے۔بات میں بات یاد آجاتی ہے ایک دفعہ حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح رضی اللہ عنہ کا صاحبزادہ فوت ہو گیا اور اس کے جنازہ میں بہت احباب شریک تھے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز جنازہ پڑھائی اور بڑی دیر لگی بعد سلام کے آپ نے تمام مقتدیوں کی طرف منہ کر کے فرمایا کہ اس وقت ہم نے اس لڑکے کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھی بلکہ تم سب کی جو حاضر ہو اور ان کی جو ہمیں یاد آیا نماز جنازہ پڑھدی ہے ایک شخص نے عرض کیا کہ اب ہمارے جنازہ پڑہنے کی تو ضرورت نہیں رہی حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو ایسا موقع نہ ملے تو یہی نماز کافی ہو گئی ہے اس پر تمام حاضرین احباب کو بڑی خوشی ہوئی اور حضرت علیہ السلام نے جو سب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ہم نے تم سب کی نماز جنازہ پڑھ دی ایسے پر شوکت اور یقین سے بھرے ہوئے الفاظ میں یہ فرمایا کہ جس سے آپ کے الفاظ اور چہرہ سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا ہم سب آپ کے سامنے جنازہ ہیں اور یقیناً ہماری مغفرت ہو گئی اور ہم جنت میں داخل ہو گئے اور آپ کی دعا ہمارے حق میں مغفرت کی قبول ہو گئی ہے اور اس میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہا۔اللہ اکبر آپ کی ہم گنہگاروں پر کیسی شفقت تھی کہ ہر وقت ہمارے لئے بخشش اور مغفرت کے لئے بہانہ ڈھونڈھتے تھے اور ہر وقت اسی فکر میں لگے ہتے تھے کہ کوئی موقع ملے کسی قسم کا بہانہ ہاتھ لگے اور مغفرت کی دعا مانگی جائے۔ایک اور شخص کا جنازہ حضرت ایک نوجوان مرحوم کی نجات اقدس علیہ السلام نے پڑھایا لیکن