تذکرۃ المہدی — Page 80
تذكرة المهدى 80 میں اس وقت نہیں تھا اس متوفی مرحوم کے رشتہ داروں نے اس واقعہ کا بیان کیا تھا کہ اٹھارہ میں برس کا ایک شخص نوجوان تھا وہ بیمار ہوا اور اس کو آپ کے حضور کسی گاؤں سے لے آئے اور وہ قادیان میں آپ کی خدمت میں آیا چند روز بیمار رہ کر وفات پاگیا صرف اس کی ضعیفہ والدہ ساتھ تھی حضرت اقدس علیہ السلام نے حسب عادت شریعہ اس مرحوم کی نماز جنازہ پڑھائی بعض کو بباعث ا لمبی لمبی دعاؤں کے نماز میں دیر لگنے کے چکر بھی آگیا اور بعض گھبرا اٹھے ( یہ گھبرانا اور چکرانا یا تھک جانا دراصل ابتدائی حالت ہے ورنہ بعد میں جو اس تعلیم حقہ اور صحبت کے یقینی رنگ میں رنگے گئے پھر تو ذوق وشوق کی حالت ہر ایک میں ایسی پیدا ہو گئی کہ دیر بھی عجبت معلوم ہوتی تھی اور ہر شخص یہی چاہتا تھا کہ ابھی اور لمبی نماز کی جائے اور نماز اور دعاؤں کو طول دیا جائے روز بروز ہر ایک کا قدم ترقی پر تھا اور وقتاً فوقتاً سلوک کی منازل طے کرتا تھا اور یقین کا درجہ حاصل کرتا تھا اور یہی كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ کا نتیجہ اور علت غائی ہے ) بعد سلام کے فرمایا کہ وہ شخص جس کے جنازہ کی ہم نے اس وقت نماز پڑھی اس کے لئے ہم نے اتنی دعائیں کی ہیں اور ہم نے دعاؤں میں بس نہیں کی جب تک اس کو بہشت میں داخل کرا کر چلتا پھرتا نہ دیکھ لیا یہ شخص بخشا گیا اس کو دفن کر دیا رات کو اس کی والدہ ضعیفہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ بہشت میں بڑے آرام سے نمل رہا ہے اور اس نے کہا کہ حضرت کی دعا سے مجھے بخش دیا اور مجھ پر رحم فرمایا اور جنت میرا ٹھکانا کیا گو کہ اس کی والدہ کو اس کی موت سے سخت صدمہ تھا لیکن اس مبشر خواب کے دیکھتے ہی وہ ضعیفہ خوش ہو گئی اور تمام صدمہ اور رنج و غم بھول گئی اور یہ غم مبدل بہ راحت ہو گیا کاش کوئی شیعہ ہو اور اس سے سبق لے کہ اپک رضي حضرت امام حسین الله تمام عمر صاجزادہ رہے اور عیش و آرام سے عمر گزاری اور ایک دن تکلیف اٹھا کر یقیناً جنت میں داخل ہو گئے اب جو شخص پہلی پچھلی حالت آرام راحت سرور و فرحت کو بھلادے اور صرف ایک دن کی