تذکرۃ المہدی — Page 67
تذكرة المهدي 67 دوات کی سیاہی جہاں کی تہاں دھری دھری سوکھ گئی انگلیاں منہ میں لب خشک کسی نے خوب کہا ہے کہ قَدْ جَفٌ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِن جو ہوتا تھا ہو گیا جو اللہ تعالی کو کرنا تھا کر دیا جس کو وقت پر بھیجا تھا بھیج دیا اور وہ دیکر بھیجا کہ جو سب کی فہم علم سمجھ ہر ایک شے سے بالا تر تھا کل دنیا اس کا مقابلہ نہ کر سکی۔یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک صوفی بھی تھے اور علم پر بہت ناز کرتے تھے آگئے فرمایا کہ ہم کو کسی امام یا مسیح کی کیا ضرورت ہے ہم کو قرآن شریف کافی ہے رسول بس ہے میں نے ان سے کہا کہ تمہاری اس بات اور اس کلمہ کفر کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی قرآن مجید میں دیا ہے کہ جب کہ یہود اور نصاری کے علماء صوفیا نے یہ کہا کہ ہمارے پاس کتب آسمانی موجود ہیں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی شریعت سے واقف ہیں اور ہم مقدس و مطہر انسان ہیں وَقَالُوا تُلُوبُنَا خُلَفَ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں جیسے ایک شے غلاف میں رکھی ہو تو گرد و خاک سے مصفی رہتی ہے اسی طرح ہمارے دل مصفی و مجلی ہیں ہم کو کسی رسول کی کیا حاجت ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کے جواب میں فرماتا ہے بَلْ لَعْنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلاً مَّا يُؤْمِنُونَ بلکہ لعنت کی ان کو اللہ نے بسبب ان کے کفر کے پس یہ تھوڑا ہی ایمان لائیں گے یعنی ان کے دلوں پر لعنت الہی کے غلاف چڑھے ہوئے ہیں ایسے لوگ ہرگز ایمان نہیں لاتے جو رسول کی عدم ضرورت مانتے ہیں وہ لعنت اللہ کے نیچے ہوتے ہیں وہ سیاہ دل مسخ شدہ رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دور اور شیطان کے قریب ہوتے ہیں وہ فنانی اشیطان ہوتے ہیں آگے اس کے فرمایا وَلَمَّا جَاءَ هُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ تصَدِّقُ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا اور جب آئی ان کے پاس کتاب (قرآن) اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والی ان ! کتابوں کی جو ان کے پاس تھیں اور تھے وہ پہلے اس کتاب اور رسول کے آنے سے ایسے کہ فتح مانگا کرتے تھے کافروں پر فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوا بِه