تذکرۃ المہدی — Page 63
تذكرة المهدي 63 باب میں نزول عیسی بن مریم کی کئی حدیثیں دیکھیں میں نے جانا کہ شاید حدیثیں صحیح نہ ہوں لیکن نزول عیسی والی حدیث میں حَكَمًا عُدَلاً دیکھا تو یہ انشراح صدر سے دل نے مانا کہ وہ عیسی تو حکماً عدلا بالکل نہیں ہو سکتا اور اپنی عقل کے مطابق دیکھا کہ وہ مسیح مردوں کو زندہ کرتا تھا اور ان حدیثوں میں ہے کہ اس کے سانس سے زندہ مریں گے اور مرے ہوئے زندہ ہونگے اور پھر اس مسیح کا حلیہ اور ہے اور اس مسیح کا حلیہ اور اور باقی یہی دل نے فیصلہ کیا کہ اب اسی کی خدمت میں چلو یہ سب عقدے اسی حکم و عدل سے حل ہوں گے پھر میں کوٹ پوتلی سے روانہ ہو کر مقصد زیارت حضرت اقدس علیہ السلام دہلی آیا۔لوگوں نے دریافت کیا کہاں جاتے ہو میں نے کہا لودھیا نہ حضرت عیسی موعود علیہ السلام کی زیارت کو جاتا ہوں اور جو مجھ سے ملتا میں اس کو یہی کہتا جو میرے منہ سے یہ بات سنتا تو حیرت سے میرا منہ تکنے لگتا اور کہتا کہ لودھیانہ اور حضرت عیسی علیہ السلام ؟ کیونکہ لوگوں کی نظروں میں تو دمشق یا مکہ معظمہ بسا ہوا تھا اور اس کے سوا مرزا غلام احمد علیہ السلام کا نام سن کر متعجب ہو تے مثل مشہور ہے که سوال از آسمان جواب از رسیمان ان کی نگاہ آسمان پر اور ہماری نظر زمین ہند پر اور وہ ادھار پر مرے ہوئے اور ہم نقد پر ندادہ مردہ پرستی میں غرق اور ہم زندہ کے خواستگار وہ سنی سنائی باتوں کے دلدادہ اور ہم حقیقت اور آنکھوں دیکھی کے آشنا ہم میں اور لوگوں میں بعد المشرقین ہو گیا اتنے میں ایک شخص نظر طفیل احمد برنی اور میرے بڑے برادر شاہ محمد خلیل الرحمان صاحب نعمانی | و جمالی سجادہ نشین بھی اسی روز دیلی آگئے حافظ صاحب سے بھی یہی باتیں ہوئیں لیکن انہوں نے سخت مخالفت کی۔مرزا صاحب کیونکر عیسی علیہ آٹھواں مباحثہ ایک حافظ سے السلام ہو سکتے ہیں۔سراج الحق: اسی طرح ہو سکتے ہیں جس طرح عیسی علیہ السلام ہو گئے۔